ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب نے ایک بوتل شربت کی محبت سے بطورہدیہ بھیجی تھی رات میں نے اس کو پانی کے ساتھ استعمال کیا تو اس کا استعمال مناسب ثابت نہ ہوا اس لئے کہ موسم مناسب نہیں تھا پھر دودھ کے ساتھ استعمال کیا توگلے میں خراش ہوگیا کیا عرض کروں میں دوستوں کو مشورہ دیا کرتا ہوں کہ جوچیز دینا چاہیں پہلے مشورہ کرلیں مگر کچھ ایسی عادت ہوگئی ہے اورعادت بھی نہیں بلکہ رسم کا درجہ ہوگیا ہے کہ اپنی چاہتی چیزدیتے ہیں حالانکہ عقل کی بات یہ ہے کہ جس کوچیز دیجائے اس کی جی چاہتی ہونی چاہئے اب بعضی چیزیں ملک میں رہنے سے بھی قلب پربارہوتا ہے جب کوئی چیز مصرف سے زائد آجاتی ہے جب تک وہ ایک طرف نہ ہوجائے اس وقت تک قلب کویکسوئی نہیں ہوتی اوربعض لوگوں کا مذاق یہ ہے کہ ان کی ملک میں جس قدر چیزیں زائد ہوں اس کے قلب کو اطمینان اور سکون زائد ہوتاہے مجھ کو وحشت ہوتی ہے غرض سب سے اسلم اور سیدھی سادی بات یہ ہے کہ جوکچھ دین پہلے مجھ سے پوچھ لیں اس میں بڑی سہولت ہے الحمداللہ میرے یہاں رسم پرستی نہیں حقیقت پرنظرہے جس کا خلاصہ راحت رسانی ہے مگر آج کل اس کا قطعا خیال نہیں بریلی سے ایک صاحب نے پوچھا تھا کہ میں تین روپیہ کی مٹھائی لانا چاہتا ہوں اگر اجازت ہو میں نے لکھ دیا کہ اس کوتو کون کھاوے گا ایک چاقو قلم تراش کی ضرورت ہے میرے پاس ہے نہیں وہ لیتے آؤ لیکن اگر تین روپیہ سے زائد ہوگا زائد قیمت میں دوں گا وہ تین روپیہ چار آنہ کا چاقولائے میں نے لے لیا اور چارآنہ نہت خفیف رقم تھی اس لئے میں نے مع اس زیادت کے لے لیا ۔
