( ملفوظ 350)ہدیہ لینے میں حضرت کا معمول

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ہدیہ میں یہ میرا معمول ہے کہ دو چیزونکو دیکھتا ہوں ایک تو یہ کہ ہدیہ میں کامل شوق ہو میں ایسے شخص کی خدمت کو منظور کر لیتا ہوں اور ایک یہ کہ ایک دن آمدنی سے زائد نہ ہو اسمیں حکمت یہ ہے کہ بعض اوقات شوق کے غلبہ میں اپنے مصالح پر نظر نہیں رہتی مگر اپنا جی چاہتا ہے کہ جو اپنے سے محبت کرے اسکو بھی تکلیف نہ ہو اسلئے مصلحت سے زیادہ مقدار میں لینا اچھا نہیں معلوم ہوتا ـ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ہدیہ دینے کے وقت ہیئت اور صورت ایسی ہونی چاہئے کہ لینے والی کو اسمیں ذلت کا شبہ نہ ہو اور یہ تو ہدیہ ہے جس میں آداب کی ضرورت ظاہر ہے میرا تو یہ مذاق ہے کہ جو میرے تنخواہ دار ملازم ہیں ان کے سامنے بھی تنخواہ کا روپیہ کبھی پھینکتا نہیں اکرام کے ساتھ سامنے رکھدیتا ہوں اسلئے کہ نوکری کی حقیقت ہے منافع بدنیہ کا معوضہ اعیان مالیہ سے اور جہاں دونوں جانب اعیاں مالیہ ہوں جیسے تجارت وہاں کوئی شخص متاع کی قیمت بصورت اہانت ادا نہیں کرتا اور منافع بدنیہ زیادہ بڑے ہوئے ہیں منافع مالیہ سے سو جب تجارت میں تاجر کی اہانت نہیں کیجاتی تو ہمکو کیا حق ہے نوکر کی اہانت کا ـ