ایک نو وارد صاحب نے پانچ روپیہ ہدیہ حضرت والا کی خدمت میں پیش کئے معمول کے خلاف ہونے کی بناء پر حضرت والا نے قبول فرمانے سے انکار فرمایا تھوڑی دیر میں ان صاحب سے ایک غلطی ہوئی اس پر تنبیہ فرماتے ہوئے حضرت والا نے فرمایا کہ اس وقت میرے پانچ روپیہ کا تو نقصان ہوا لیکن اگر میں وصول کر لیتا تو اس وقت آپ کی اصلاح کے متعلق صاف صاف نہ کہہ سکتا تھا لے لینے کے بعد خیال تو ہوتا ہی ہے کہ یہ میرے محسن ہیں ان کی رعایت کرنا چاہئے یہ نہ لینے ہی کی برکت ہے کہ صاف صاف کہہ دیا اور اگر نہ کہتا تو ان کے دین کا نقصان تھا اور اب تو اپنا دنیا کا نقصان کیا بلا سے پانچ روپیہ نہ ملے مگر ایک مسلمان کو ہمیشہ کے لئے جہل سے نجات مل گئی ـ
