ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریکات کی مصالح مسلم سہی مگر حدود شرعیہ کا اتباع تو ہم پر ہو وقت اور ہر حالت میں فرض ہے اور احکام شرعیہ ہر وقت اور ہر حالت میں واجب العمل ہیں مگر اس تحریک میں تو بڑی ہی گڑبڑ سے کام لیا گیا میں ایک مرتبہ سفر کر رہا تھا چند ساتھی ہمراہ تھے ایک صاحب ناشنا سا ہمارے قریب آکر بیٹھ گئے ٹکٹ چیکر آیا اس نے ٹکٹ مانگنے ٹکٹ ہمارے ایک ہی جگہ تھے میں نے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھا دو اس نے سب ٹکٹ اکٹھے دیکھ لئے اور وہ صاحب جو بیٹھے تھے انکو بھی ہمارا ساتھی سمجھ کر علیحدہ ان سے ٹکٹ نہیں مانگا شمار میں غلطی ہوگئی اسکی وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر لوگ اعتماد کرتے ہیں کہ یہ ثقہ لوگ ہیں حالانکہ حساب سے ایک ٹکٹ کم تھا مگر وہ چلا گیا تو وہ صاحب بولے کہ صاحب آپکی بدلت میں بھی مواخزہ سے بچ گیا میں نے پوچھا یہ کیا بات کہنے لگے کہ میرے پاس ٹکٹ نہ تھا میں نے پوچھا کیوں کہا کہ علماء کا فتوی ہے کہ بلا ٹکٹ سفر کرنا جائز ہے میں نے پوچھا کہ کون علماء کہا کہ علماء تحریک نے فتوی دیا ہے اسکو نقل کر کے حاضرین سے فرمایا کہ مسائل سے قطع نظر کر کے ایک بات تو یہی دیکھنے کی ہے کہ ایسے کام کرنے والے کو قلب کی جمعیت میسر نہیں ہو سکتی یہ کیا تھوڑا عذاب ہے کہ پریشان حال چور بنے بیٹھے ہیں اور جمعیت ظاہر ہے کہ بڑی دولت ہے حضرات صوفیہ نے تو جمعیت قلب کا بڑا اہتمام کیا ہے اس لئے اسکی بھی ضرورت ہے کہ کسی سے عداوت پیدا نہ کرے کیونکہ عداوت میں جمعیت قلب برباد ہو جاتی ہے ہر وقت دشمن کی طرف سے قلب پریشان اور مشوش رہیگا ایک بزرگ کے ایک مرید جو لوگوں سے الجھتے بہت تھے ان بزرگ نے منع فرمایا کہ تم کو ایسی باتوں سے بہت دلچسپی ہے اس کا نتیجہ برا ہے عرض کیا کہ لوگوں کو راستی پر لانے کے لئے ایسا کرتا ہوں فرمایا کہ تم کو راستی کا طریقہ ہی معلوم نہیں تم تو دشمن بنا لیتے ہو پھر فرمایا کہ ایسی راستی ہی چھوڑ دینا چاہئے جس سے عداوت عامہ پیدا ہو البتہ یہ اس امر میں ہے جو واجب نہ ہو اور اگر واجب ہو اس میں کسی کی دشمنی دوستی کی ذرا پروا نہ کرنا چاہئے پھر فرمایا کہ بعض طبائع فطرۃ تیز ہوتی ہیں ـ ان کو کسی کی مخالفت سے تشویش ہی نہیں ہوتی بنگور میں مولوی رحیم الہی صاحب ایک مشہور بزرگ تھے ان کا واقعہ ایک شخص بیان کرتے تھے کہ پڑوس میں کچھ لوگ مولوی صاحب کے مخالف رہتے تھے اور اکثر بزوگوں کے تھوڑے بہت مخالف ہوتے ہی ہیں اس میں بھی حکمت ہے کہ ان بزرگ میں عجب کا مرض نہ پیدا ہو جائے اس لئے جہاں معتقدین وہیں مخالفین جہاں گل وہیں خار ان مخالفین کو شرارت سوجھی کو مولوی صاحب کے مکان اور مسجد کی درمیان ایک تھوڑی سی جگہ خالی پڑی ہوئی تھی محض مولوی صاحب کی مخالفت اور ایذاء کی غرض سے اس جگہ میں ایک طوائف کا ناچ کرایا مولوی صاحب نماز کے لئے گھر سے مسجد آئے راستہ میں یہ خرافات ہو رہی تھی مگر صبر کیا کچھ نہیں بولے مگر جب مسجد سے گھر کو واپس ہوئے اور اس جگہ پہنچے اور پھر وہی منظر دیکھا جوش آگیا بھری مجلس میں بلا کسی خوف کے جوتہ نکال کر اس عورت پربجانا شروع کر دیا مجمع سب قریب مخالفین ہی کا تھا مگر کسی کی یہ ہمت نہ ہوئی کہ اسکو چھوڑا ہی لیتا دین کی بزرگی اور ہیبت خدا داد ہوتی ہے کتنا ہی کوئی مخالف ہو مگر دین کا ادب ہر شخص کے خصوص مسلمان کے قلب میں ضرور ہوتا ہے غرضیکہ مجلس رقص درہم برہم ہو گئی ان شریر لوگوں نے اس عورت کو مشورہ دیا کہ مولوی صاحب پر دعویٰ کر ہم گواہی دیں گے اور روپیہ بھی ہم ہی صرف کرینگے اس عورت نے جواب میں کہا کہ روپیہ تو میرے پاس بھی ہے ( حضرت والا نے مزاحا فرمایا کہ مالزادی تو ہوتی ہی ہیں ) اور میں دعویٰ بھی کر سکتی ہوں اور تم گواہی بھی دے دو گے مگر ایک چیز اس سے مانع ہے وہ یہ کہ میں خیال کرتی ہوں اس شخص کے دل میں اگر دنیا کا ذرا بھی شائبہ ہوتا تو مجھ پر اسکا ہاتھ ہرگز اٹھ نہ سکتا تھا اس سے ، معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص بالکل اللہ والا ہے تو ایسے شخص کا مقابلہ اللہ تعالی کامقابلہ کرنا ہے سو میری اتنی ہمت نہیں اور اس عورت نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ مولوی صاحب کے مکان پرپہنچی معافی چاہی اور عرض کیا کہ میں اپنے پیشہ سے توبہ کرتی ہوں کسی بھلے آدمی سے میرا نکاح کرا دیجئے مولوی صاحب نے توبہ کرائی اور کسی سے نکاح کرا دیا بھلا کیا کوئی اپنے علم پر ناز کر سکتا ہے ـ اللہ تعالی جسکو جو چاہے ، دیدیں دیکھئے اسکو کیا دولت فہم عطا ہوئی اگر یہ نہ معلوم ہو کہ جواب دینے والا کون ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ولیہ کاملہ عارفہ ہوگی جسکا یہ جواب تو اس حالت میں آدمی کیا ناز کرے اپنے علم اور تقوی پر نہ معلوم دوسرے میں کیا چیز ہے اور خدا کے ساتھ اسکو کیا تعلق ہے کسی کو کیا خبر تھی کہ اس عورت کے اندر ایسا نور فہم ہے یہ حق تعالی کو معلوم ہے کہ کون کیسا ہے کسی کو حقیر نہ سمجھنا چاہئے اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ مجھ کو عاصی سے نفرت نہیں معاصی سے نفرت ہے اس لئے پلک جھپکنے میں عاصی کا کایا پلٹ ہوجاتی ہے نیز مولوی صاحب کے اخلاص کی بھی برکت تھی کہ حقیقت پر سے حجاب اٹھ گیا ـ ایک اور آوارہ عورت کی حکایت ہے گنگوہ میں ایک درویش باہر سے آئے وہ بدعتی تھے شہرت ہوئی ایک بازاری عورت کے آشنا نے کہا کہ ایک بزرگ آئے ہیں چلو زیارت کر آئیں اس عورت نے کہا کہ ضرور چلو غرضیکہ بزرگ کی جائے قیام پر دونوں پہنچے یہ مرد تو مجلس میں جا بیٹھا اور عورت ایک طرف کسی آڑ کی جگہ میں بیٹھ گئی اس شخص سے ان بزرگ نے دیکھ کر پوچھا یہ کون ہے اس آشنا نے کہا کہ ایک ایسی ہی عورت ہے زیارت کو آئی ہے مگر اپنے اس فعل کی شرمندگی کے سبب آگے آنے کی ہمت نہیں ہوتی وہ بزرگ کیا کہتے ہیں کہ بھائی شرمندگی کی کیا بات ہے سب وہی کرتا ہے ـ وہی کراتا ہے یہ کہنا تھا کہ اس عورت کے آگ لگ گئی اور فورا کھڑی ہو کر اپنے آشنا سے کہا کہ بھڑوے تو کہتا تھا کہ بزرگ ہیں یہ شخص تو مسلمان بھی نہیں اور فورا واپس ہوگئی اب دیکھ لیجئے ـ درویش بنے ہوئے تھے جنکا باطن ایمان سے بھی قریب قریب خالی تھا اور وہ فاحشہ تھی جسکا باطن عرفان سے پر تھا تو کسی کے دل کی کسی کو کیا خبر حاصل یہ ہے کہ اپنے تقوی اور زہد پر ناز نہ کرنا چاہئے اور اسکی بناء پر دوسروں کو نظر تحقیر سے نہ دیکھنا چاہئے اور عقائد حقہ اجمال کے درجہ میں تو فطری ہی ہیں اور ہر شخص میں ہوتے ہیں اگر کسی عارض سے مختل نہ ہوگئے ہوں ـ
