( ملفوظ 435 )ہمارے حضرت حاجی صاحب فن طریقت کے امام تھے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے اپنے بزرگوں کی دعا کی برکت سے صحیح اصول دل میں پیدا فرما دیئے باقی آگے اور کچھ آتا جاتا نہیں کتابیں پڑھیں وہ بھی بے تکی سبق میں کبھی حاضر ہوا کبھی نہیں مگر اللہ کا فضل ہے کہ باوجود ان سب کوتاہیوں کے اساتذہ ایسے مل گئے کہ ان حضرات کی تحقیقات مغز ہیں ۔
حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسے استاد ملے جو میزان کل تھے کتابوں کے اور علوم کے اور اس کے بعد حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسے استاد ملے جو اس فن کے امام تھے مجتہد تھے مجدد تھے سب ان ہی کا صدقہ ہے جو ہم بیٹھ کر باتیں بگھارتے ہیں گو حضرت درسیات پڑھے ہوئے نہ تھے مگر علم جس چیز کا نام ہے وہ حضرت کو عطا ہوا تھا ۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ میں حضرت حاجی صاحب کا علم کے سبب معتقد ہوں کسی نے اس کی حقیقت پوچھی تو مولانا نے فرمایا کہ ایک تو ہے ابصار ( نگاہ ) اور ایک ہے مبصرات ( دیکھی ہوئی چیزیں ) فرض کرو ایک شخص اپنے وطن ہی میں مقیم ہے اس نے سیاحت نہیں کی مگر نگاہ بہت تیز ہے جس چیز کو دیکھتا ہے صحیح دیکھتا ہے ۔ سو اس شخص کے مبصرات کم ہیں مگر ابصار زیادہ ہے ۔ ایسے ہی حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو علم زیادہ ہے گو معلومات کم ہیں جس چیز کو بھی سمجھے ہوئے ہیں اس کی حقیقت تک پہنچے ہوئے ہیں اور درسیات پڑھنے والے اسی شخص کے مشابہ ہیں جس نے ساحت تو زیادہ کی مگر نگاہ ضعیف ہے اس کے مبصرات زیادہ ہیں اور ابصار کم پھر فرمایا کہ میں مولانا کا یہ مقولہ اس وجہ سے سناتا ہوں کہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے علم کے متعلق اتنے بڑے شخص کی شہادت ہے یہی تو وہ علوم ہیں جس کی نسبت فرماتے ہیں
بینی اندر خود علوم انبیاء بے کتاب و بے معید و اوستا
( تم اپنے اندر حضرات انبیاء علیہم السلام کے علوم بغیر کسی کتاب اور مددگار اور استاد کے پاؤ گے )
حضرت مولانا یہ بھی فرماتے تھے کہ ہمارے ذہن میں تو مقدمات پہلے آتے ہیں اور مقاصد بعد میں اسی لئے وہ مقدمات کے تابع ہوتے ہیں اگر کہیں مقدمات غلط ہو گئے تو مقاصد بھی غلط ہو جاتے ہیں اور حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے یا دوسرے عارفین کے ذہن میں مقاصد پہلے آتے ہیں اور مقدمات کی غلطی کا اثر مقاصد میں نہیں پہنچتا ۔ بلکہ بعض حقیقت شناسوں نے تو مولانا محمد قاسم صاحب کے علوم کو حضرت حاجی صاحب کے علوم کا ظل بتایا جاتا ہے چنانچہ حضرت حاجی صاحب خود فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالی اپنے مقبول بندوں کو ایک لسان عطاء فرماتے ہیں ۔ حضرت شمس تبریز کو حضرت مولانا رومی عطاء فرمائے گئے تھے جو ان کی لسان تھے اور مجھ کو مولانا محمد قاسم صاحب عطاء فرما گئے ہیں جو میری لسان ہیں حاصل یہ تھا کہ میرے ہی علوم کی ترجمانی فرماتے ہیں ۔