ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حق تعالیٰ جس کو بھی اپنے کام میں لگالیں اور توفیق عطاء فرمادیں بڑی ہی دولت ہے بڑی ہی نعمت ہے ایسا شخص دنیا کی طرف متوجہ ہونہیں سکتا اورایک وقت میں دوطرفہ توجہ ہوبھی کب سکتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اور کاموں کے نہیں رہتے اسی وجہ سے ان کولوگ دیوانہ سمجھتے ہیں دیوانہ تو ضرور ہیں مگر یہ بھی معلوم ہے کہ کس کے دیوانہ ہیں اس دیوانگی کو فرماتےہیں
مااگر قلاش وگردیوانہ ایم مست آں ساقی وآں پیمانہ ایم
( ہم اگرچہ مفلس اور دیوانے ہیں ، مگراس ساقی اورپیمانے کے مست ہیں )
یہ خدا وند جل جلالہ کے دیوانہ ہیں ان کے عاشق ہیں جب کے عشق میں آدمی کسی اورکام کا نہیں رہتا توخالق ک عشق کا کیا پوچھنا اسی کو فرماتے ہیں
عشق مولٰی کے کم از لیلٰے بود گوئے گشتن بہراو اولے بود
( حق تعالٰی کا عشق لیلی سے عشق سے کب کم ہوتا ہے ، حق تعالٰی لے لئے گیند بن جانا زیادہ والیٰ ہے ۔ 12)
اور معترض کا منہ نہیں کہ وہ اس مذاق پراعتراض کرسکے اس لئے کہ وہ خود ہی دیکھ لے کہ ایک فانی چیز کی یعنی دنیا کی طلب میں کیسا کھپا ہوا ہے کہ اپنے خالق اور پیدا کنندہ کو بھی بھول گیا اپنے اپنے محبوب پرسب ہی مٹا کرتے ہیں باوجود اس کے جب طالب دنیا کو کوئی دیوانہ نہیں کہتا تو پھرایسوں کو جولوگ دیوانہ اور پاگل کہیں وہ خود پاگل ہیں۔
