( ملفوظ 218)حق تعالٰی کی رضا اور انکی یاد مقصود بالذات ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جو کچھ تنبیہ کرتا ہوں یا کھود کرید کرتا ہوں صرف اس واسطے کہ مخاطب کو جہل سے نجات ہو اور مقصود سے قریب ہو لوگ اکثر بیعت کو یا متعارف ذکر و شغل کو یا جوش خروش کو مقصود سمجھتے ہیں جو سخت دھوکہ ہے حقیقت پر پردہ پڑا ہوا ہے حق تعالٰی کی رضا اور انکی یہ دو چیزیں ظاہر میں پھیکی پھیکی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی مقصود بالذات ہیں گو ان کے ساتھ شورش نہ ہو جوش و خروش نہ ہو ـ