( ملفوظ 449 )حق العمل و لو مع انخلل ( ملقب بہ حق العمل و لو مع الخلل )

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مولوی صاحب نے لکھا ہے کہ میں نے ایک گھڑی خریدی ہے اس میں الارم ہے تہجد کے وقت اس سے آنکھ کھلتی ہے اس کا افسوس ہے کہ اب تک کوئی چیز پیدا نہیں ہوئی خارجی چیزوں کی حاجت ہے ۔ میں نے جواب لکھا کہ افسوس کی کیا بات ہے خارجی چیزوں سے کہاں تک بچو گے ضروری چیزیں زیادہ تر خارجی ہیں چنانچہ روٹی بھی خارجی ہے پانی خارجی ہے ان سے کہاں تک بچو گے ۔ یہ سب اللہ تعالی کی نعمتیں ہیں انہوں نے گھڑی ایجاد کرا دی ۔ تم کو اتنی وسعت دی کہ اس کو خرید سکے اس میں الارم لگوا دیا سو اس سے استغناء کی فکر کیوں ہے تمہیں اللہ تعالی کے احسانات کا ان کی رحمت کا ان کی عطاء کا شکر ادا کرنا چاہئے اور خوش ہونا چاہئے نہ کہ افسوس !
معلوم نہیں لوگ بننا کیا چاہتے ہیں بندہ بن کر رہنا تو لوگوں کو دو بھر ہو گیا کمال کے معنی گھڑ کر اس معنی کے اعتبار سے اپنے کو کامل بنانا چاہتے ہیں ۔ مگر حضرات انبیاء علیہم السلام کو دیکھئے جو ہر طرح کامل ہیں مگر ان سے پوچھئے کہ وہ اپنی عبادتوں کو کیسا سمجھتے تھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں لن یدخل الجنۃ احد بعملہ کہ جنت میں اپنے عمل کی وجہ سے کوئی داخل نہ ہو گا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ولا انت یا رسول اللہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا و لا انا الا ان یتغمدنی اللہ برحمتہ ۔ اگر آپ اپنے عمل کو کامل سمجھتے تو جنت میں جانے کو عمل کا ثمرہ کیوں نہ فرماتے حضرت وہاں تو فضل ہی پر مدار ہے شیخ سعدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں ۔
بندہ ہماں بہ کہ زتقصیر خویش عذر بدرگاہ خدا آورد
ورنہ سزا وار خداوندیش کس نتو اند کہ بجا آورد
جب انبیاء علیہم السلام کمال کا دعوی نہیں کرتے تو اور کس کا منہ ہے کہ وہ کامل ہونے کا یا بننے کا دعوی کرے بس عبدیت یہی ہے کہ کام میں لگے رہو اور آگے کو چلتے رہو اگر کوئی شخص چلنے کے وقت ہر قدم پر یہ دیکھے کہ رفتار سریع ہے یا بطی ( سست ) تو منزل ختم ہو چکی اور منزل مقصود پر پہنچ لیا ارے تیز ہے یا سست ۔ چلا چل منزل سے قریب ہی بڑھے گا اور ایک روز پہنچ رہے گا ۔
مجنون کی حکایت ہے ایک مرتبہ اپنی لیلی کی ملاقات کے لئے اونٹنی پر سوار ہو کر چلا جس کے ساتھ بچہ بھی تھا جو اونٹنی کے پیچھے آ رہا تھا جب تک مجنوں کے ہوش حواس درست رہتے اور مہار ہاتھ میں رہتی اونٹنی چلتی رہتی اور جب اس پر محبت کا غلبہ ہوتا تو بے ہوش ہو جاتا ۔ مہار ہاتھ سے چھوٹی جاتی اونٹنی محسوس کر لیتی کہ اب سوار غافل ہے وہ پیچھے لوٹ کر بچے کے پاس جا پہنچتی پھر مجنوں کو جب ہوش آتا دوبارہ پھر مہار سنبھال کر بیٹھتا اور لے کر چلتا پھر اسی مدہوشی کی کیفیت کا غلبہ ہوتا اونٹنی پھر اسی طرح پیچھے لوٹتی ہوش آیا تو دیکھا کہ ابھی وہیں ہوں جہاں سے چلا تھا تب مجنوں نے یہ شعر پڑھا :
ھوی ناقتی خلفی و قدامی الھوی فانی و ایاھا لمختلفان
یعنی میرا محبوب تو آگے ہے اور اس اونٹنی کا محبوب پیچھے ۔ میرا اس کا نباہ نہیں ہو سکتا اور ساتھ ہی اوپر سے کود پڑا چوٹ بھی لگی اسی لئے کے بے تکے پن سے کودا چلنے کی بھی قوت نہ رہی تو زمین پر ہی لیٹے لیٹے لڑھکنا شروع کر دیا تو مجنون نے تو لیلی کے عشق میں یہاں تک گوارا کیا اور تم
خدا کے عشق کا اور محبت کا دعوی کرتے ہو پھر انتظار کس بات کا ہے جس طرح بھی ہو اور جیسے بھی تیزی سے سستی سے چل پڑو کیا خدا کی محبت لیلی کی محبت سے بھی کم ہے خوب فرماتے ہیں :
عشق مولی کے کم از لیلے بود گوئے گشتن بہر او اولی بود
اور تم تو رجسٹری شدہ محب ہو فرماتے ہیں و الذین امنوا اشد حبا للہ ۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کو سب سے زیادہ اللہ کی محبت ہے اس لئے محب ہونے سے انکار بھی نہیں کر سکتے جب تمہاری محبت اور عشق نص سے ثابت ہو گیا تو عشق تو ایسی چیز ہے کہ سوائے محبوب کے کسی کو نہیں چھوڑتا پھر موانع پر نظر کیسی خوب فرمایا :
عشق آں شعلہ است کو چوں برفروخت ہر چہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
تیغ لادر قتل غیر حق بر اند مرحبا اے عشق شرکت سوز تفت
( عشق وہ شعلہ ہے کہ جب یہ بھڑکا تو محبوب کے سوا اور سب کو جلا دیتا ہے ۔غیر حق کا فنا کرنے کے لئے جب لا کی تلوار کھینچی تو پھر دیکھو آگے کیا رہ گیا ۔ ( ظاہر ہے کہ ) الا اللہ رہ گیا ۔ مبارک ہے وہ عشق جو غیر حق کی شرکت کو بالکل فنا کر دینے والا ہے )
حضرت عشق کے تو کاروبار ہی نرالے ہیں یہ چیزیں ہی ایسی ہے کہ بجز محبوب کے قاعدوں کے کوئی قاعدہ قانون ہی باقی نہیں رہتا ۔ بلکہ کوئی چیز بھی باقی نہیں رہتی سوائے محبوب کے یہ خدا سے کیسی محبت اور کیسا عشق ہے کہ جس میں ایسی باتوں پر نظر ہے جو محبوب کی راہ میں سد راہ ہیں محب کو کسی طرح بھی چین نہ آنا چاہئے اگر چین ہے تو اپنے دعوی میں جھوٹا ہے عاشق نہیں ۔ خاتم مثنوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک حکایت لکھی کہ ایک عورت چلی جا رہی تھی اس نے دیکھا کہ میرے پیچھے ایک مرد آ رہا ہے اس عورت نے کہا کہ تو میرے پیچھے کیسے آ رہا ہے ۔ اس نے کہا کہ میں تم پر عاشق ہو گیا ہوں اس عورت نے کہا کہ میری بہن مجھ سے بھی زیادہ خوبصورت ہے میرے پیچھے آ رہی ہے مجھ جیسی بد صورت پر کیا عاشق ہوتے ہو وہ زیادہ حسین ہے اس پر عاشق ہو یہ سن کر اس شخص نے منہ موڑ کر دیکھا اس عورت نے اس کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا اور کہا
گفت اے ابلہ اگر عاشقی دربیان دعوی خود صادقی پس چرابر غیر افگندی نظر ایں بود دعوی عشق اے بے ہنر
( اس عورت نے کہا کہ ارے بیوقوف اگر تو میرا عاشق صادق ہوتا تو میرے سوا دوسری پر کیوں نظر ڈالتا ۔ کیا عشق کا دعوی ایسا ہی ہوتا ہے )
اسی طرح وہ شخص کذاب ہے جو خدا کی محبت اور عشق کا دعوی کرے اور اس کے احکام اور اس کے نام لئے بغیر اس کو چین ہو اسی کو فرماتے ہیں :
اے کہ صبرت نیست از فرزند و زن صبر چوں داری زرب ذوالمنن
اے کہ صبرت نیست از دنیائے دوں صبر چوں داری زنعم الماہدوں
( تجھ کو بیوی بچوں بغیر اور کمینی دنیا کے بغیر تو صبر نہیں آتا ۔ تعجب ہے کہ حق تعالی کے بغیر کس طرح صبر آ جاتا ہے )
ارے چلو تو چلنے میں بے ڈھنگاپن ہی سہی عشق میں عرفی حدود و شرائط بھی کہاں وہ عاشق کیسا جس کو یہ خیال ہو کہ ہائے فلاں حال نہیں ہوا فلاں کمال نہیں ہوا فرماتے ہیں :
دوست دارد دوست ایں آشفتگی کوشش بے ہودہ بہ از خفتگی
( محبوب کو یہ پریشان حالی محبوب ہے ۔ تو ہماری ناکام کوشش بے کار رہے تو بہتر ہی ہے 12 )
اگر آدمی اسی میں رہے کہ میں کامل بنوں جنید بغدادی بنوں تو میں بتلائے دیتا ہوں کہ کچھ بھی نہیں بنے گا بس کام میں لگو سعی اور کوشش کرو وہ کسی کی محنت کو رائیگاں نہیں فرماتے اور بدوں کام میں لگے یہ تمنائیں پکانا یہ شیطان کی راہ زنی ہے ہمارا مذہب تو یہ ہے جیسے ایک شخص کا مقولہ ہے کہ وہ دربار ایسا ہے کہ کئے جاؤ اور لئے جاؤ کیسی کام کی بات ہے ایسے ہی قافیہ وار اور مفید بات ایک مرتبہ ریل میں ایک گاؤں کا شخص کہہ رہا تھا کہ نیک رہو اور ایک رہو کتنے عالی مضمون کو دو مختصر جملوں میں بیان کر دیا ۔ آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔ غرض یہ شیطان کی راہ زنی ہے کہ کھاؤں گا گھی سے ورنہ جاؤں گا جی سی ۔ ایک شخص نے یہ سن کر لاصلوۃ الا بحضور القلب نماز چھوڑ دی تھی ایک صاحب یہاں پر آئے تھے کسی حاجت کے لئے مجھ سے دعا کو کہا کہ دعا کر دیجئے میں نے کہا تم بھی کرو اور میں بھی کرتا ہوں کہتے ہیں کہ جی ہماری کیا دعاء ہماری زبان ایسی کہاں ۔ میں نے کہا کہ اسی زبان سے کلمہ شریف پڑھتے ہو جب ایسی زبان نہیں تو اس سے کلمہ شریف بھی نہ پڑھو یہ شیطان نے راہ مارر رکھی ہے مثلا اسی شخص کو برکات دعا سے محروم کررکھا ہے ۔
صاحبو ! جتنا عمل بھی ہورہا ہے وہ ناقص ہی سہی کیا ہم اس کے مستحق تھے ظاہر ہے ہمارا کیا استحقاق ہوتا کیا استحقاق استحقاق لئے پھرتے ہیں یہ سب ان کا فضل اور عطاء ہے اور استحقاق تو کیا ہوتا ہم نے تو کچھ مانگا بھی نہ تھا خود فضل فرمادیا اسی کو کہتے ہیں :
ما بنودیم و تقاضا ماں نبود ٭ لطف تو ناگفتہ نامی شنود
( ہم موجود نہیں تھے اور نہ ہمارے وجود کا کوئی تقاضا تھا مگر اس وقت بھی حق تعالٰی کا لطف ہماری التجاؤں کو ہماری دوخواست کے سن رہا تھا )
بس جتنا دیا غنیمت ہے ہمارا حق ہی کیا تھا ارے کمال نہیں تو ناقص نماز کی تو توفیق دیدی دوسروں کو تو ناقص کی بھی توفیق نہیں ان سے تو پھراچھے حال میں رکھا اب رہ گیا نقص سواس کا علاج اللھم اغفرلی ہے الحمد اللہ کامل تعلیم پیش کردی گئی اور یہ طفیل اس کا ہے کہ ہم سب خادمان دین کے خادم ہیں چنانچہ اللہ تعالٰی کا شکر ہے کہ ہماری نظر فقہ اور تصوف دونوں پرہے دونوں کو ملاکر عمل اور تعلیم کرتے ہیں اسی لیے کس جگہ پریشانی نہیں دشواری نہیں ۔ جو لوگ کمال کی فکر میں پڑجاتے ہیں ان کو بہت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے پھر اس ناقص سے بھی محروم ہوجاتے ہیں اس کامل یا ناقص پرایک واقعہ یاد آیا ۔ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کے پاس کہیں سے کھانا آیا آپ نے اپنے ایک خلیفہ کے پاس بھیج دیا انہوں نے عرض کیا حضرت تحقیق بھی فرمالیا ہے حرام ومشتبہ تونہیں فرمایا کہ جا بڑا نکلا ہے حلال وحرام والا ۔ بھوکا مرجائے گا کھالیا کر جوخدا دیا کرے ۔ مطلب یہ کہ بلا وجہ اتنی تفشیش اور تحقیق کے پیچھے نہ پڑے ۔ ایک شخص تھے یہاں پر ان کی ایک شخص نے دعوت کی جب کھانے بیٹھے تب تفشیش شروع کی کہ یہ چیز کہاں سے آئی یہ برتن کیسی کمائی کے ہیں ۔ وہ بے چارا پریشان بھلا پہلے ہی کیوں نہیں تحقیق فرمالی تھی کچھ نہیں یہ بھی ایک مرض ہے جو تکبر سے ناشی ہے ایسے ہی ایک مرتبہ ایک شخص نے میری دعوت کی مجھ کو شبہ تھا حرام کا ۔ میں نے تنہائی میں لطف کے ساتھ صاف کہہ دیا کہ اس شبہ کی وجہ سے مجھ کو عذر ہے اس شخص نے کہا کہ میں نے اس کا کافی انتظار کرلیا ہے مجھ کو اس کا خود خیال تھا ۔ بس قصہ ختم ہوا اور چیزاپنے موقع پراور حد پراچھی معلوم ہوتی ہے ۔ خود حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ تھی کہ جن دو چیزوں کا آپ کو اختیار دیا جاتا تھا تو سہل کو اختیار فرماتے تھے تو پھردوسرے کا کیا منہ ہے کہ اعمال میں کمال مزعوم کے درپے ہو
انتھت رسالۃ حق ولو مع الخلل ۔