ایک صاحب کے سوال کےجواب میں فرمایا کہ جی ہاں آپ نے قدر کی میرے طرز کی اور اس کو سمجھا اس کا حاصل یہ ہے کہ میں کبھی کسی پراعتراض نہیں کرتاہاں کوئی مسئلہ ہوتا ہے اس کو بیان کردیتاہوں وہ بھی اس نیت سے کہ حقیقت کا اظہار ہوجائے حق واضح ہوجائے کبھی کسی کی تفسیق وتجہیل وتحقریروتذلیل کی نیت ہوتی پھربھی مجھ پراعتراضات کئے جاتے ہیں اور سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ میں کچھ بولتا نہیں غیریب کی جو روسب کی بھابی ، ایک مولوی صاحب کانام لے کر فرمایا کہ ان سے کوئی نہیں بولتا نہ ان کےکوئی درپے ہوتا ہے اس لئے کہ وہ بولتے ہیں میں لے کرفرمایا کہ ان سے کوئی نہیں بولتا نہ ان کے کوئی درپے ہوتا ہے اس لئے کہ وہ بولتے ہیں میں بولتا نہیں وجہ یہ ہے اس جرات اور بیبا کی کی مگر اللہ کا لاکھ لاکھ شکرہے کہ پھرخودہی آکر سرنگوں ہوتے ہیں اور یہ میں فخرسے نہیں کہتا بلکہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ مظلوم اگرکافربھی ہوتو حق تعالی اس کی نصرت فرماتے ہیں اس میں کسی کمال اور بزرگی کوکیا دخل ۔
