( ملفوظ 52) حقیقت مجاہدہ :

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حقیقت مجاہدہ کی ہے نھی النفس عن الھوی ( نفس کو اس کی خوہشات (مذمومہ ) سے روکنا ۔ 12) اوراس کے حاصل ہونے کی تدبیر یہ ہے کہ خاف مقام ربہ ( اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا ہے ) اگریہ کہا جائے کہ شریعت میں مجاہدہ سے مراد مجاہدہ مع الکفار ہے تو اس حدیث کے کیا معنی ہونگے المجاھد من جاھد نفسہ ( مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے ) بلکہ مجاہدہ ظاہری میں مشغول ہونا آسان اور سہل ہے اور مجاہدہ باطنی میں مشغول ہونا سخت کام ہے اور اس میں تسامل کرنا ایسا ہے کہ باہر کے دشمن کو تو مار دیا مگر اندر کے دشمن کی طرف التفات ہی نہیں اسی کو فرماتے ہیں
دربہ بست ودشمن اندر خانہ بود حیلہ فرعون زیں افسانہ بود ( دشمن تو گھر کے اند رموجود تھا اور دروازہ بند کرلیا ، فرعون کی تدبیر کی ناکامی کی وجہ یہی ہوئی )
اور فرماتے ہیں
اے شہاں کشتیم ما خصم برون ماند خصمے زو بتر در اندرون
کشتن ایں کار عقل وہوش نیست شیر باطن بحرہ خرگوش نیست
( اے حضرت ہم نے باہر کے دشمن کو تو ماردیا مگر باہر کے دشمن سے بدترین اندرہ گیا ہے اس اندر کے دشمن کے مارنے کی تدبیر عقل کے بس کی نہیں ہے کیونکہ یہ باطنی شیر،خرگوش عقل و ہوش کے بس میں آنے والا نہیں ہے ( اس کے مسخرے کرنے کے لئے تائید غیبی کی ضرورت ہے اور وہ تمہاری طلب اور شیخ کامل کے اتبا ع
سے حاصل ہوگی )
اور سب میں بڑی چیز جو اس کی بھی اصل ہے وہ ہے کسی کامل کی صحبت ، بدوں اس کے اس راہ میں کامیابی مشکل ہے بدوں راہبر اس میں قدم رکھنا خطرہ سے خالی نہیں اسی کو مولانا فرماتے ہیں
یار باید راہ تنہا مرو بے قلاؤ زاندریں صحرا مرو
( سلوک طے کرنے کےلئے ساتھی کی ضرورت ہے تنہا مت چلوبغیررہبرکے اس جنگل میں مت جاؤ )
اپنے کو اس کے سپرد کردو اور زبانی سپرد کرنے سے بھی کچھ نہ ہوگا بلکہ وہ جو تجویذ کرے گا اس پر عمل کرنا ہوگا اور اگر ہرچرکہ پرقلب میں کدورت پیدا ہوگئی تو بس مقصود حاصل ہوچکا اسی کو مولانا فرماتے ہیں
توبیکے زخمے گریزانی ز عشق تو بجز نامے چہ میدانی زعشق
( تو ایک چرکہ سے عشق کے بھاگتاہے تو معلوم ہو اکہ عشق کانام ہی نام جانتا ہے (حقیقی عشق تجھ کو حاصل نہیں ۔ 12)