ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کی جی ہاں لوگ آزادی اور حریت کی حقیقت سے ناواقف ہیں اس لیے یہ مرض ایسا عام ہوگیا کہ سلطنت اور حکومت سے تو آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں خدا سے بھی آزا د ہوگئے خدا کا بھی خوف قلوب سے جاتا رہا یہ سب الحاد ہے بدفہمی کی بھی کوئی حد نہیں رہی حریت کس آزادی کو کہتے ہیں آیا حق سے آزاد ہونے کو یا غیر حق سے اس لیے کہ ایمان والے کیلئے تو حق کی غلامی ہی باعث فخر اور باعث فلاح اور بہودی ہے اور یہ آزادی بھی اللہ والوں ہی کو میسر ہے اور جومدعی ہیں آزادی ہزاروں طوق اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں حقیقی آزادی خاصان حق ہی کو حاصل ہے ان کی یہ حالت ہے کہ وہ دنیا سے
öö öööö 47 öööö
آزادی اور حق کے پابند اور غلام ہیں اس غلامی پر لاکھوں کروڑں آزادیاں قربان جن کو اس غلامی کا رازمنکشف ہوگیا وہ تو بزبان حال یہ کہتے ہیں
اسیرش نخواہد رہائی زبند شکاری نجوید خلاص از کمند
( اس کا قیدی قید سے رہائی نہیں چاہتا اس کا شکاراس کے جال سے نکلنا نہیں چاہتا12)
میں اس پر ایک حکایت بیان کر تا ہوں وہ یہ کہ ایک عاشق جواپنے محبوب کی تلاش میں برسوں سرگرداں اور پریشان پھرتا تھا اتفاق سے ایک روزہ یہ چلا جارہا تھا کہ اس محبوب نے خاموشی سے آکر پیچھے سے آغو ش میں لے کر اس زور سے دبایا کہ اس کی پسلیاں دوسری طرف کی پسلیوں سے جاملیں آنکھیں نکل آئیں دم گھٹنے لگا اس حالت میں محبوب دریافت کرتا ہے کہ اگرمیرے دبانے سے تم کو تکلیف ہوتی ہے تو میں تم کو چھوڑکر اور کسی کو جاکراپنی آغوش میں دبا لوں اس وقت وہ اگر عاشق صادق ہے تو یہ کہے گا
نشودنصیب دشمن کہ شود ہلاک تیغت سرد وستاں سلامت کہ تو خنجرآزمائی
( تیری تلوار سے ہلاک ہونا خدا کرے دشمن کے نصیب میں نہ ہو، تیری خنجر آزمائی کے لئے دوستوں کا سرحاضرہے ۔ 12)
