ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں ہمیشہ اس کی رعایت رکھتا ہوں کہ اہل علم پر کسی کی حکومت نہ ہو ۔ میں جب مدرسہ کانپور میں تھا وہاں ایک رجسٹر مدرسین کی حاضری کا تھا وہ مدرسہ کے کسی کارکن کے سپرد نہ تھا محض مدرسین کی دیانت پر ایک خاص موقع پر رکھ دیا گیا تھا کہ وہ مدرسہ میں اپنے آنے کا وقت اس میں خود لکھ دیا کریں ۔ میں نے محض اس خیال سے ایسا کیا تھا کہ ان پر کسی کی حکومت کرنا ان کے حقوق عظمت کے خلاف تھا اور مدرسہ کی رقم زائد دے دینا مدرسہ کے حقوق دیانت کے خلاف تھا اور اس معمول سے دونوں کے حقوق کا تحفظ ہو گیا مہینہ کے ختم پر منٹ تک جمع کر کے ان کی تنخواہ سے وضع کر لیا جاتا تھا اور میں خود بھی بلا واسطہ یا بواسطہ اہل علم پر حکومت کرنا پسند نہیں کرتا ۔
