(ملفوظ 107)ہرمرض پرآسیب کا شبہ کرنا درست نہیں :

ایک صاحب نے کسی مرض کے لئے تعویذ کی درخواست کی اور یہ بھی عرض کیا کہ فلاں مرض ہے مگر آسیب کا بھی شبہ ہے اور حالت یہ ہے سن کر فرمایا کہ کسی طبیب سے مرض کا علاج کراؤ ایسی حالت میں کہ مرض کاغالب احتمال ہے میں تعویذ نہ دوں گا تعویذ دینے میں یہ مفسدہ ہے کہ علاج کی طرف سے بلکل بے فکری ہوجائے گی سوا گر تعویذ دیدیا تواس کی مصلحت کوتو دیکھا مفسدہ کونہیں دیکھا اکثر عوام خصوص دیہاتی ہرمرض کو آسیب ہی کہنے لگتے ہیں اور ان تعویذوں کا تختہ مشق مجھ کواس لئے زیادہ بنایا جاتا ہے کہ میں کچھ لیتا نہیں اگر میں سوا روپیہ لینے لگوں تو پھر حکیم صاحب کے پاس جانے لگیں گے کیونکہ وہاں پانچ پیسے کا نسخہ ہوگا اور یہاں پانچ چونی کا تو جہاں خرچ کم ہوگا وہی کام ہوگا جیسے ایک بخیل رئیس بننے کی حکایت ہے وہ بیمار ہوا لوگوں نے علاج کرنے کا مشورہ دیا کہنے لگا علاج کا تخمینہ کرو چنانچہ تخمینہ کراکر اطلاع کی گئی کہنے لگا اب مرنے کے خرچ کا تخمینہ کرو اس کا بھی تخمینہ کیا گیا تو وہ اتفاق سے کم تھا کہنے لگا بس اب مرنے کے خرچ کا تخمینہ کرو اس کا بھی تخمینہ کیاگیا تو وہ اتفاق سے کم تھا کہنے لگا بس اب مرنے کوزندگی پرترجیح دی اس لئے کہ دوا میں زائد خرچ ہوتا تھا اور مرنے پرجوخرچ تھا وہ کم تھا تواکثر لوگ کم خرچ کی طرف رجوع کرلیتے ہیں پھر تختہ مشق بنانے کوبھی گوارا کیا جاسکتا ہے مگرآفت یہ ہے کہ تعویذ مانگنے میں ستاتے بہت ہیں بات پوری نہیں کہتے حتی کہ باربار پوچھنے پربھی صاف بات نہیں کہتے جس سے بڑی اذیت ہوتی ہے اسی اذیت سے بچنے کے لئے میں نے ایک مرتبہ یہ تجویذ کی کہ جوآیا کرے گا اس سے کچھ نہ پوچھوں گا بس بسم اللہ شریف کا تعویذ لکھ کردیدیاکروں گا اس تجویذ کی مشق کرنے کے لئے طالب تعویذ کا منتظر ہوکر بیٹھا کہ کوئی آئے تواس تدبیر پرعمل کرو اتفاق سے دوشخص آئے انہوں نے آکر حسب معمول جاہلانہ صرف اتنا ہی کہا کہ تعویذ دیدویہ نہیں کا کہ کس چیز کاتعویذ میں نے ان کے کہتے ہی بسم اللہ شریف کا تعویذ دیدیا اس قسم کا یہ پہلا ہی تعویذ دیاتھا وہ لےکرچل دیئے میں اپنی اس تجویذ پر بہت خوش ہوا اور خدا کا شکر یہ ادا کیا کہ تدبیر خوب رہی نہ کچھ پوچھ نہ کچھ بڑا آسان طریقہ سمجھ میں آیا میں نے مولوی شبیرعلی سے کہا کہ میں نے تعویذ کے متعلق بڑ ی سہولت کی تجویذ نکالی ہے اور وہ تدبیر بیان کی وہ بولے کچھ خبربھی ہے جن شخصوں کو تعویذ دیاتھا وہ کیا کہتے جارہے تھے یہ کہتے جارہے تھے کہ دیکھوہم نے کچھ بھی نہیں کہا او ر تعویذ مل گیا ان کوتوبے کہے ہی دل کی بات کی خبر ہوجاتی ہے تب اس تجویذ سہولت کو بھی سلام کیا یہ حالت ہے عوام کے عقائد کی اگر مجھ کو یہ واقعہ معلوم نہ ہوتا تو خود یہ تجویز کتنے بڑے مفسدہ کا پیش خیمہ بن جاتی اور یہ تو اس صورت میں ہے کہ کسی کے معاملہ میں کسی کو واسطہ نہیں بناتا ورنہ واسطے بنانے کے مفاسد میں نے مشاہدہ کئے ہیں ایک بڑا مفسدہ یہ ہے کہ تھوڑے دنوں بعد لوگ ان واسطہ صاحب کی پرستش کرنے لگیں گے یہ سمجھ کرکہ یہ مقرب ہے پھر نہ معلوم کہاں تک نوبت پہنچ جائے نیز ان واسطہ صاحب کو خود بھی تقریب کاوہم ہوجاتا ہے ایک بار ان ہی وقتوں کی وجہ سے کہ لوگ آکر دق کرتے ہیں یہ خیال ہواتھا کہ ایک شخص کو ایک رجسٹرڈ دیکر خانقاہ کے دروازہ پربٹھلادو جوآیا کرئے اس کی حالت وغیرہ لکھ کرمجھ کو دکھلا دیا کرئے مگر وہی مصیبت پیش نظر ہوگئی کہ اس میں مقرب سمجھنے کاسخت اندیشہ ہے پھر وہ مقرب لوگوں کے لئے مکرب (تکلیف دینے والا ) ہوجاتا تعجب نہ تھا کہ رجسڑبھرنے کی فیس آنے والوں سے چار آنہ لینے لگتا اس لئے آنے والوں کی بہہودہ حرکات سےمتاذی ہونا گوارا کرتا ہوں مگر الحمداللہ کسی کو واسطہ ومخصوص بناکر ایک کی روایت کو دوسرے پرحجت اور اس کےمعاملہ میں موثر نہیں بناتا اور عدل ہے اس پر حق تعالیٰ کا شکرادا کرتا ہوں اور ان کا فضل سمجھتا ہوں ۔
10/ربیع الاول 1351ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ