( ملفوظ 593)حیا اور جھجک شرافت کی علامت ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل بے پردگی کی عام زہریلی ہوا چل گئی ہے قطعا جھجک نہیں رہی حیا شرم نہیں رہی اور جھینپ بڑی صفت ہے میری طالب علمی کے زمانہ میں ایک طالب علم نے دیوبند میں مجھ سے حکایت بیان کی تھی کہ مدارس میں ایک قاضی کا انتقال ہوا ان کے لڑکے نے عید کی نماز پڑھائی بلا جھجک اس پر ایک دانشمند شخص نے کہا کہ یہ صحیح النسب معلوم نہیں ہوتا تحقیق سے معلوم ہوا کہ بالکل صحیح ہے جھینپ تو شرافت کے لوازم سے ہے مگر آج کل یہ جھجک لڑکوں میں تو کیا لڑکیوں اور عورتوں میں بھی نہیں رہی ۔