فرمایا میں نے مسلمانوں کے لئے کافی انتظام کردیا ہے فلاں دنیا کا بھی اورفلاں دین کا بھی یعنی رسالہ حیات المسلمین میں سب کچھ لکھ دیا ہے اگر اس پر عمل کریں انشاءاللہ دین ودنیا کی فلاح اس میں موجود ہے فرمایا کہ ریل کے سفر میں ایک گنوارکو کہتے سنا تھے بڑے ہی کام کی بات کہہ رہا تھا کہ نیک رہو اور ایک رہو تو حیاۃ المسلمین میں نیک ہونے کا راستہ بتلا دیا ہے اور صیانہ المسلمیں میں ایک ہونے کا راستہ بتلا دیا ہے اب عمل کرنا یہ لوگوں کی ہمت پرہے اور صورت اس کی بہت سہل ہے وہ یہ ہے کہ ہرجگہ پردس دس آدمی ہم خیال ہوکر پنچایت کی صورت بنا لیں اور کام شروع کردیں انشاءاللہ تعالٰی دس ہی آدمی کے ہم خیال ہوجانے سے ساری بستی پراثرہوگا بس اتناعمل کافی ہے پھر جو کام بھی جس سے لینا چاہیں گے کوئی انکار نہ کرے گا صیانہ المسلمین کا حاصل یہی ہے باقی جو مبلغ و واعظ ہیں ان کے بس کا یہ کام نہیں وہ تو صرف طریقہ بتلاسکتے ہیں اور ترغیب دے سکتے ہیں یہ انتظامی کام مقام لوگوں کےکرنے کا ہے کہ وہ جماعتیں بنا کر کام کرتے رہیں اورمبلغ وقتا فوقتا پہنچ کر عام لوگوں کو نصائح کرتے رہیں اس کی برکت سے انشاءاللہ تعالٰی چند روز میں مسلمانوں کی حالت درست ہوسکتی ہے فلاح اور بہبود کا سہران کے سربند سکتا ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ کام کرنے والے مخلص ہوں یہ نہ کہ غیر مخلص اول ہی میں گھس جائیں ورنہ پھر یہ ہوگا کہ صدر میں ہوں دوسرا کہے گا میں ہوں اگرمخلص حضرات کام کریں گے انشاءاللہ تعالٰی کامیابی ہوجائے گی اس لئے کہ جتنی ضرورتیں اس وقت مسلمانوں کو ہیں اس رسالہ میں سب ہیں صرف عملی صورت کام شروع کرنے کی ضرورت ہے لیکن اگرمسلمان کچھ کرنا ہی نہ چاہیں تواس کا میرے پاس کیا علاج ہے ۔
18 شوال المکرم 1350ھ مجلس بعد نماز جمعہ
