( ملفوظ 247)حضور کے چند لفظی لطائف

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اکثر کئی کئی مرتبہ گزرنے کا اتفاق ہوتا ہے مگر پھر بھی راستہ یاد نہیں ہوتا بھول جاتا ہوں فرمایا کہ بات تو میرے اندر بھی ہے میاں راستی یاد رہے راستہ یاد رہے نہ رہے اس میں کیا رکھا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کے لطائف بھی بڑے معنی خیز اور نصیحت آمیز ہوتے ہیں ـ ایک مولوی صاحب مجھ سے فرماتے تھے کہ حضرت والا کے لطائف ہی کا مجموعہ جمع کر لیا جائے تو اسی میں سب کچھ ہے مثلا ایک صاحب سے تحریکات کے متعلق سلسلہ گفتگو میں آپ نے فرمایا تھا کہ اگر محض کاغزی امیرالمؤمنین بن جاؤں تو نتیجہ یہ ہو کہ آج امیرالمومنین ہوں اور کل کو اسیر الکافرین بن جاؤں اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ ایک صاحب یہ واقعہ بیان کرتے تھے کہ خورجہ میں ایک مولوی صاحب کو یہ ہی الفاظ پہنچائے گئے تو سن کر ان پر ایک وجد کی سی کیفیت ہو گئی اور ایک گھنٹہ تک اس کی شرح بیان کرتے رہے کہ بدون کامل قدرت کے اگر آج امیرالمومنین ہوگئے تو کل اسیرالکافرین ہو جائیں گے ـ میں نے یہ واقعہ سن کر اس سے تو مجھ کو بھی استیاق ہو گیا ـ سننے کا وہ شرح کیا ہوگی جو ایک گھنٹہ تک بیان کی گئی ہے میں نے تو محض ایک لطیفہ کے طریق پر شاعری کے انداز پر بیان کر دیا تھا ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت والا نے ایک ایسے ہی موقع پر بھی تو فرمایا تھا کہ آج سردار ہیں اور کل سردار ہونگے ـ فرمایا کہ یہ بھی اسی کا ترجمہ ہے ـ
10 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ