ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عشاق کے حالات پڑھ لیا کرے ان کے پاس بیٹھ لیا کرے اس سے ہی بہت کچھ ہو رہتا ہے ـ بالخصوص حضرات چشتیہ سے تعلق رکھنے سے ایک خاص دولت ملتی ہے یعنی فنا ـ کیونکہ ان کے یہاں یہی خاص چیز ہے ـ کہ اپنے کو مٹا دو فنا کر دو بعض حضرات کے یہاں بقا مقصود ہے ـ فنا تابع اور حضرات چشتیہ کے ہاں فنا اصل ہے ـ بقا تابع ـ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ پر فناء کی ایک خاص شان غالب تھی ـ چناچہ حضرت سے کوئی عرض کرتا کہ حضرت کی وجہ سے یہ ہوا کہ وہ ہوا فرماتے میاں میں نے کچھ نہیں کیا ـ تمھارے اندر دولت تھی میرے پاس آکر تعلیم پر عمل کرنے سے اس کا ظہور ہو گیا ـ یہ شان فنا کی تھی اور یہ بھی فرماتے کہ تم یہ مت سمجھنا یہ مصلحت طالب کی تھی ـ قاری محمد علی صاحب جلال آبادی کہتے تھے یہ مولانا شیخ محمد صاحب کے مرید تھے کہ مولانا مظفر حسین صاحب کاندہلوی حضرت حاجی صاحب کے متعلق فرماتے تھے کہ حاجی صاحب بزرگان سلف میں سے ہیں ـ اس وقت کے بزرگوں میں سے نہیں ـ واقعی حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی یہی شان تھی ـ
20 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز جمعہ
