(ملفوظ 170)حضرات چشتیہ کی شان فنا :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرات چشتیہ کے حالات دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حضرات کو سب غیراللہ سے ذہول ہوگیا تھا ایک کے سوا سب کو فنا کردیا تھا اس فنا کے غلبہ مٰیں بعض اوقات بعض اہل ظاہر کوان حضرات پر شبہ ہوگیا ہے
خلاف شریعت عمل کرنے کا حالانکہ واقعی شان ان کی بلکل اس کی مصداق ہے واصطنعتک لنفسی یعنی اللہ تم کو اپنا بنا لیا اس شبہ کی ایک مثال ہے کہ شدت شوق میں تمام شب جاگے اس کو اہل ظاہر نے خلاف سنت میں داخل کیا اور بدعت کہا حالانکہ حقیقی عشاق پراعتراض کرنا ہی بدعت ہے گو بعض اہل ظاہر نے کثرت عبادت کو بدعت کہا ہے اور اس سے استدلال کرتے ہیں ، لاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ مگر وہ حضرات بھی اس ہی آیت سے استدلال کرتے ہیں ان کے لئے اس کا مدلول اس کاعکس ہے آیت وہی ہے وہ استدلال میں یوں کہتے ہیں کہ اگرہم کثرت سے عبادت نہ کریں تو ہلاک ہوجائیں تو تقلیل عبادت تہلکہ ہے کیسا عجیب اور لطیف استدلال کیا ہے جس کا معترض کے پاس کوئی معقول جواب نہیں یہ استدلال حضرت حاجی رحمہ اللہ کا ہے سبحان اللہ ۔