ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ واقعی حضرت اپنے وقت میں اس فن کے مجتہد تھے اس کے ساتھ ہی حضرت انتاظمی شان بڑی تھی خصوص شریعت کی حفاظت میں ایک مرتبہ امیر شاہ خانصاحب نے حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کے ایک فتوے کے متعلق جس میں کچھ توسع فرمایا گیا تھا حضرت کو ایک خط لکھ مارا کہ جب آپ حضرت ایسی باتوں کو جائز کہیں تو بدعتی نہ معلوم کہاں پہنچ جائیں گے لکھنے کو تو لکھ لوں گا مگر اسکے بعد متنبہ ہوا کہ ایسا لکھنا سوء ادب ہے دوسرا خط لکھا کہ ایک خط ایسی بے ادبی کا لکھ چکا ہوں اور نادم ہوں امید ہے کہ احقر کو معاف فرمائیں گے حضرت نے جواب میں تحریر فرمایا کہ امیر شاہ خانصاحب مجھے حیرت ہے کہ اظہار حق کے بعد ندامت مجھ کو تو جیسے پہلے خط سے خوشی ہوئی تھی دوسرے سے اتنا رنج ہوا یہ تھی ان حضرات کی شان حفاظت شریعت کی ـ
