( ملفوظ 324)حضرت گنگوہی اور حضرت حاجی صاحب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا با کمال ہونا اس سے ظاہر ہے کہ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ جیسے شخص کا تعلق عقیدت حضرت سے تھا ـ حضرت مولانا قاسم رحمتہ اللہ علیہ کا معتقد ہونا تو اس درجہ کی حجت نہیں ـ اس لئے کہ وہ خود ہی اخلاق میں اور عشق میں مغلوب تھے ـ البتہ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ میں ایک خاص انتظامی شان تھی ـ جیسے انبیاء علیہم السلام کے ورثاء میں ہونا چاہئے ـ وہی شان تھی ـ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کی جس کا اثر تھا ـ لا یخافون فی اللہ لومۃ لائم حق میں ذرہ برابر کسی کی پرواہ نہیں کرتے تھے ـ اگر حضرت حاجی صاحب میں ذرا بھی کمی ہوتی تو مولانا علی الاعلان تعلق قطع فرمادیتے ـ