( ملفوظ 369) حضرت گنگوہی اور حضرت نانوتوی کا عملی اختلاف اور حضرت حاجی صاحب کا فیصلہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے راجوپور کے ایک صاحب سے جن کے خاندان کے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے خاندان سے تعلقات تھے یہ واقعہ سنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب اور حضرت مولانا گنگوہی حج کو تشریف لئے جا رہے تھے ـ جہاز میں ایک مسئلہ میں گفتگو ہوگئی جب کوئی فیصلہ نہ ہوا تو حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نے فرمایا کہ اب گفتگو ختم کی جاوے اس کا فیصلہ حضرت فرمائیں گے ـ حضرت مولانا گنگوہی نے فرمایا کہ حضرت فن تصوف کے امام ہیں ان علوم کا فیصلہ حضرت کس طرح فرما سکتے ہیں یہ علمی بحث ہے یہ رائے حکیمانہ تھی ـ حضرت مولانا گنگوہی کی ـ حضرت مولانا قاسم صاحب نے فرمایا کہ اگر حضرت ان علوم کو نہیں جانتے تو ہم فضول ہی حضرت سے تعلق پیدا کیا ـ ہم نے تو حضرت سے تعلق ان ہی چیزوں کے جاننے کے واسطے کیا ہے ـ یہ رائے عاشقانہ تھی کیا ٹھکانا ہے ـ اس عاشقانہ حالت کا غرض مکہ معظمہ پہنچ کر حضرت کے سامنے مسئلہ پیش بھی نہیں ہوا ـ مگر حضرت نے خود کسی تقریر میں پورا فیصلہ فرمادیا اور اکثر غامض مسائل کا وہاں حل ہو جاتا تھا ـ حتی کہ بعض اوقات درسی اصطلاحی الفاظ تقیریر میں ہوتے تھے ایک دفعہ کسی کو شبہ ہوا کہ علوم تو الہامی ہوتے ہیں مگر اصطلاحات تو مکتسب ہوتی ہیں ـ حضرت کو عہ اصطلاحات کیسے معلوم ہوئیں ـ حضرت نے از خود فرمایا کہ الہام کبھی بوسطہ الفاظ کے ہوتا ہے اور کبھی بلا واسطہ کے مگر باوجود اتنے بڑے انکشاف کے اس پر اعتماد نہ تھا ـ فرمایا کرتے تھے کہ الہام بھی وہی معتبر ہے جوکتاب و سنت کے موافق ہو بہرحال اس مسئلہ کا پانچ منٹ میں حضرت نے فیصلہ کردیا ـ اس پر حضرت مولانا محمد قاسم صاحب کی تو مسرت کی کوئی انتہا نہ تھی ـ اور حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کی حیرت کو کوئی انتہا نہ تھی ـ