( ملفوظ 550 )حضرت غوث پاک کا جنتی ہونا

فرمایا میرے پاس ایک مولوی صاحب اور ایک عامی آئے باہمی نزاع یہ تھی کہ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ حضرت غوث پاک قطعی جنتی نہیں اور جاہل یہ کہتا تھا کہ اگر وہ جنتی نہیں تو پھر تو کون ہوگا ـ جاہل سے میں نے کہا کہ ہاں بھائی وہ جنتی نہ ہوں گے تو اور کون ہوگا مولوی صاحب مجھ سے لڑنے لگے کہ کیا دلیل ہے یقینا جنتی ہونے کی ـ میں نے کہا ذرا ٹھریئے پھر میں نے جاہل سے پوچھا کہ حضرت ابوبکر صدیق یقینا جنتی ہیں یا نہیں ـ اس نے کہا بلا شک وہ جنتی ہیں میں نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق کا جنتی ہونا کیسے ثابت ہوا کہنے لگا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے پھر میں نے کہا کہ حضرت غوث اعظم کا جنتی ہونا کیسے ثابت ہوا کہنے لگا کہ اولیائے امت کی شہادت مقبولیت سے میں نے کہا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں اولیاء اللہ کے ارشاد میں کچھ فرق ہے یا نہیں اس نے کہا کہ بہت ہے میں نے کہا اتنا ہی اثر دونوں ارشادوں کے اثر میں ہے یا نہیں کہنے لگا کہ ضرور ہے میں نے کہا کہ اتنا ہی فرق حضرت ابوبکر صدیق کے جنتی ہونے میں اور حضرت غوث پاک کے جنتی ہونے میں ہے یا نہیں کہنے لگا کہ ہاں ہے میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ حضرت جو آپ کا عقیدہ ہے وہی اس کا بھی ہے صرف فرق عنوان کا ہے یہ اس کو یقینی کہتا ہے آپ غلبہ ظن ـ باقی اصل معنوں میں دونوں متفق ہیں جب حضرت ابوبکر صدیق کے جنتی ہونے کا مرتبہ یقینی سے حضرت غوث پاک کے جنتی ہونے کا مرتبہ متنزل مانتا ہے اسی کا نام عدم قطعیت ہے مولوی صاحب بہت خوش ہوئے مقصود اس حکایت سے یہ ہے بلا ضرورت عوام الناس کو متوحش بنانا اور بلا دلیل ان پر بدگمانی کرنا اچھا نہیں ـ