ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس فن کے امام تھے حدیث شریف میں آیا ہے الغیبۃ اشد من الزنا یہ تو مسلم ہے کہ احکام میں متعدد حکمتیں ہوتی ہہیں چنانچہ اس کی ایک حکمت تو مشہور ہے وہ یہ کہ زنا حق اللہ ہے اور غیبت حق العبد ہے اور ایک حضرت نے اپنے علوم موہوبہ سے ایک مرتبہ بیان فرمائی وہ یہ کہ غیبت گناہ جاہی ہے اور زنا گناہ باہی ہے یعنی منشاء غیبت کا تکبر ہے جوبعد غیبت کے بھی باقی رہتا ہے اور اسی لئے اکثر غیبت کرنے والے کو مذمت نہیں ہوتی ہے اور اپنے کو گنہگار نہیں سمجھتا بخلاف زنا کرنے والے کے کہ اس کو مذمت نہیں ہوتی ہے اور اپنے گنہگار نہیں سمجھتا بخلاف زنا کرنے والے کے کہ اس کو ندامت بھی ہوتی ہے اور اپنے کو گنہگار بھی سمجھتا ہے سبحان اللہ کیا ٹھکانا ہے ان علوم موہوبہ کی لطافت کا اور جوحکمتیں خود منصوص ہیں وہ ان واردات سے بھی زیادہ لطیف ہیں ۔
17 شوال المکرم 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنج شنبہ
