ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر کوئی حضرت حاجی صاحب کی تمام کرامتوں کی نفی کرے ہم اس کے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں اس لئے کہ حاجی صاحب کے اصلی کمال کے سامنے یہ کرامتیں ایسی ہیں جیسے بچپن کے زمانہ میں بچے مٹی کا گھر بنا کر اس کا نام محل رکھ لیتے ہیں اگر کسی بچہ کے پاس عالی شان محل بھی ہو تو اس مٹی کے محل کے بگڑ جانے سے اس بچہ کو اگر وہ سمجھ دار ہے کچھ بھی رنج نہ ہو گا جبکہ اصل محل موجود ہے ۔
