ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس وقت اپنے فن کے مجتہد تھے امام تھے حضرت کی بصیرت دیکھئے اللہ اکبر ناجائز ملازمت کے چھوڑنے کی اجازت نہ دیتے تھے فرمایا کرتے تھے کہ اگر معصیت وقار یہ ہو کفر کی تو ایسی معصیت کو کفر پر ترجیح ہوگی وجہ یہ ہے اب تو گناہ ہی مبتلا ہے اور ملازمت چھوڑدینے کے بعد افلاس کا شکار ہوگا جس سے ضعف طبیعت کی وجہ سے بعض کے لئے اندیشہ ہے کفر کا اسلئے فرماتے تھے کہ پہلے جائز ملازمت تلاش کر لو پھر نا جائز کو چھوڑ دو معمولی علماء بھی ایسی تحقیقات بیان نہیں کر سکتے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نے ایک مرتبہ حضرت کو لکھا کہ اگر اجازت ہوتو ملازمت چھوڑ دوں اس وقت مولانا مطیع مجتبائی میں دس روپیہ تنخواہ پر ملازم تھے حضرت نے کیا عجیب جواب لکھا کہ مولانا ابھی تو آپ پوچھ رہے ہیں یہ پوچھنا دلیل ہے تردد کی اور تردد دلیل ہے خامی کی اور حالت خامی میں ملازمت کا چھوڑنا موجب پریشانی اور تشویش کا ہوگا جب مولانا کو یہ جواب فرمایا گیا تو اور کس کا منہ ہے قوت کے دعوے کا البتہ اقویاء کا دوسرا حکم ہے چناچہ خود حضرت پر پڑے سخت وقت گزرے ہیں مگر حضرت نے کبھی اسباب و تدابیر کا اہتمام نہیں فرمایا اور حضرت کی تو بڑی شان تھی حضرت کی صحبت کی برکت سے حضرت پیرانی صاحبہ کو لکھا کہ پہلے تو ہم خدام بے فکر تھے حضرت کی وجہ سے اب حضرت کی وفات ہو گئی تو ہم خدام آپ کی ضروریات کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں اس لئے میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آپ یہانپر رہنا چاہتی ہیں یا نہیں یا مکہ ہی میں تاکہ اسی جگہ راحت کا انتظام کر دیا جاوے جواب آیا کہ ہم اسوقت عدت میں ہیں جسمیں خروج جائز نہیں تو خروج کا تذکرہ بھی مناسب نہیں عجیب بات تحریر فرمائی جس سے اکابر مشائخ کی سی شان تحقیق معلوم ہوتی ہے یہ باتیں ہیں قابل وجہ غرض میں عدت کے ختم ہونے کا منتظر رہا جب عدت ختم ہوگئی میں نے پھر لکھا کہ اب تو عدت ختم ہوگئی اب کیا حکم ہے اور میں نے یہ بھی عرض کیا کہ ہمیں سہولت تو آپ کے یہاں آجانے میں ہے جواب آیا کہ میں عورت ہوں ناقص العقل ہوتی ہے میری کیا رائے تم اور مولانا رشید احمد صاحب مشورہ کر کے جو تجویز کر دیں میں اسی کی تعمیل کرونگی پھر میں نے حضرت مولانا سے مشورہ کیا حضرت نے وہاں ہی کے قیام کو ترجیح دی میں نے پیرانی صاحبہ کو اطلاع کر دی اور ارادہ کیا کہ وہاں رہنے کی حالت میں کچھ انتظام مالی خدمت کا کر دیا جاوے مگر سامان یہ ہوگیا کہ ایک رئیس نے بقدر کفایت ماہوار مقرر کر دیا اور تا حیات جاری رکھا اس لئے بے فکری ہو گئی ـ
24 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ
