ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تھانہ بھون ہے چھوٹی جگہ مگر اس میں بڑے بڑے صاحب کمال گذرے ہیں دین کے اعتبار سے بھی اور دنیاوی فنون کے اعتبار سے بھی وہ لوگ جنہوں نے یہان کی تعمیرات بنوائیں یہ سب مقربان شاہی میں سے تھے اس لئے تعمیرات بھی شاہی نمونہ کی بنوائی گو جگہ تویہ ہمیشہ چھوٹی ہی رہی گی مگر طرزوہی رہا جو شاہی تعمیرات کا تھا چنانچہ شہر پناہ کی فیصل بھی تھی دروازے بھی تھے ان دروازوں کے الگ الگ نام تھے بعض بزرگوں نے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں آبادی اس کی اڑتالیس ہزار تھی مگرعذر سے قبل بھی چھتیس ہزار رہ گئ تھی اور گھٹتے گھٹتے اب قریب سات ہزارکے ہے آبادی کا طریق پرہے ہندو الگ مسلمان الگ پھرہندوں بھی قانون کو الگ بنئے الگ پرہمن اسی طرح چھوٹی قومیں بھی الگ گگ اور اسی طرح کی مسلمانوں کی آبادی ہے کہ شیوخ الگ سادات الگ راجپوت الگ البتہ اب کچھ گڑبڑ ہوگئی ہے یہاں پرایسے ایسے اہل کمال لوگ تھے ایک شخص تھے عبدالرحمن چابک سواری کا کام کرتے تھے ایک بنئے سے اس گھوڑا سیدھانے پرپانچ سو ورپیہ ٹھرے مگر اس نے براہ عہدی صرف تین سوہ روپیہ دینا چاہا انہوں نے مجبور ہوکر تین سو ہی روپیہ ٹھرے مگر اس نے براہ عہدی صرف تین سوہ روپیہ دینا چاہا انہوں نے مجبورہوکر تین سو ہی روپیہ کے کر دعاء دی اور کہا کہ لالہ جی آپ نے بڑی قدردانی کی گووعدہ خلافی کی مگر خیر اچھا لاؤ کیا یاد رکھو گے گھوڑے میں ایک ہنر رہ گیا ہے لاؤ وہ بھی سکھلادوں لالہ جی بہت خوش ہوئے کہ بڑا سستا کام ہوگیا اورمکمل ہوگیا اور گھوڑا سپرد کردیا یہ لے کرچلے آئے اور وہ ہنر سکھا کرسپردکر آئے وہ ہنر کیا تھا جوسکھایا کہ جس وقت لالہ سوارہوکر کہیں کوجائیں تو گھوڑا سیدھا گاؤں قصاب کی دکان پرپہنچاتا اور جب تک لالہ گوشت نہ خیرید لیں دکان سے نہ ہٹتا آخر مجبور ہوکر لالہ جی نے کہا کہ میاں صاحب وہ دوسو بھی لے لو اور چاہے دس بیس اوپرلے لو مہربانی کرو بڑا عجیب ہنرسکھایا ہے اس ہنرکو نکالو کہا کہ لاؤ بقیہ دوسوروپیہ گن دو لالہ جی نے ادا کردیئے انہوں نے ایک ہی دن میں یہ عادت گھوڑے کی چھوڑا دی ایک اور حکایت ہے کہ ایک شہسوار کہیں باہر سے آیا اپنے فن میں بڑاکمال رکھتا تھا ان عبدالرحمن سے اظہار کمال میں اس کا محیط 72 ہاتھ کا ہے ایک شہتیربچھوا کراس پرسے علی التعاب گھوڑوں کو گذارا جائے چنانچہ اول اس مسافر شہسوار نے اس پراپنا گھوڑا چڑھادیا اب بیچ کنویں پردونوں گھوڑے منہ ملائے اس شہتیر پرکھڑے ہیں میاں عبدالرحمن نے اس شہسوار سے کہا کہ اب دونوں کے عبور کی توکوئی صورت نہیں یہی ہوسکتا ہے کہ دونوں گھوڑوں کو لوٹاؤ مسافر نے کہا کہ میں تواتنا کمال نہیں رکھتا کہ میں گھوڑے نے فورا اپنے دونوں اگلے پیراٹھا کراور پچھلے دونوں پیرپرگھوم کرپشت کی طرف منہ کراور شہتیر سے گذر کرکنوئیں سے الگ جاکر کھڑا ہوا اس کمال پرلوگوں کو حیرت ہوگئی واقعی تھی بھی بڑے کمال کی بات ۔
