(ملفوظ 246)حضرت امام ابوحنیفہ کی ذہانت (حکایت )

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ امام صاحب کی ذہانت مشہور ہے ایک مرد نے اپنی بیوی سے کہا اگرتومجھ سے صبح تک نہ بولی تو تجھ پرطلاق ہے عورت مرد سے الگ ہونا چاہتی تھی دل میں بڑی خوش ہوئی اس شخص کو بھی فکرہوئی امام صاحب کے پاس جاکر واقعہ عرض کیا آپ نے فرمایا کہ گھبراؤ مت جاؤ ہم کوئی صورت نکادیں گے یہ شخص بہت پریشان تھا کہ امام صاحب نے نہ کوئی مسئلہ بتلایا اورنہ کوئی تدبیر صبح ہونے پر معاملہ ہی ختم ہوجائےگا آخرشب میں امام صاحب نے اس ہی محلہ میں آکر تہجد کے وقت اذان دی یہ عورت سمجھی کہ صبح ہوگئی خوش ہوکر مرد سے بولی پڑی کرلیجئے صبح ہوگئی خدا تعالٰی نے مجھ کو نجات دے دی ۔ مرد بیچارے کی بری حالت ہوگئ صبح کو امام صاحب کے پاس آیا اور واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا کہ یہ تہجد کی اذان تھی صبح نہیں ہوئی تھی چنانچہ اس میں الصلوۃ خیرمن النوم نہیں کہا گیا تب مرد کی جان میں جان آئی اور عورت اپنا سا منہ لے کررہ گئی ایک دوسرا واقعہ ہے ایک مرد نے اپنی بیوی سے قسم کھائی کہ اگرمیں تجھ سے پہلے بولوں تو تجھ پرطلاق ۔ عورت نے قسم کھائی کہا اگر میں پہلے بولوں تو میرا فلاں غلام آزاد اس پرتمام علماء سے رجوع کیاگیا سب نے بالاتفاق یہ ہی کہا کہ دوصورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہوگی یا طلاق یا غلام آزاد امام صاحب سے رجوع کیا فرمایا کہ جاؤ تم بولو کچھ نہ ہوگا اس کوسن کرتمام علماء چڑھ آئے اور سب کو بڑا تعجب ہوا کہ امام صاحب نے یہ فتوٰی کیسے دیا اور آکر پوچھا امام صاحب نے فرمایا کہ مرد کے حلف کے بعد عورت نے کلام میں تقدیم کی ( یعنی جب مرد نے قسم کھائی کہ اگرمیں پہلے بولوں تو تجھ کو طلاق اس پرعورت نے مرد سے کہا کہ اگرمیں پہلے بولوں توغلام آزاد تو مرد کی قسم کے بعد پہلے عورت اس سے بات کہہ کربول چکی لہذا اب جومرد بولے گا وہ عورت سے پہلے نہ ہو لہذا طلاق نہ پڑی اور جب مرد نے بول لیا تب عورت بولے گی تو غلام بھی آزاد نہ ہو ا ) 12۔ اب جومرد بولے گا توحلف کے بعد توتقدیم نہ ہوگی سب کو حیرت ہوگئی ایک اور حکایت ایک طالب علم کی ذہانت کی لکھی ہے کہ ایک حسین جاریہ فروخت ہورہی تھی ایک طالب علم شخص اس کو دیکھ کر عاشق ہوگیا مگر بیچارہ مفلس تھا اتنی وسعت اور قوت نہ تھی کہ زردے کرخرید سکے غضب کی تدبیر کی ایک امیردوست کے پاس پہنچ کر ایک جوڑا ایک گھوڑا عاریت کےکر اور چند دوستوں کے جلوس لے کر بازار کی طرف سوار ہوکر چلا جس سے معلوم ہوا کہ کوئی بہت بڑا رئیس اعظم ہے اس سودا گر کی دکان پرپہنچا اوراس سے اس جاریہ کا سوداگر صرف زر کا مطالبہ کرسکتا ہے اس کی واپسی کی کوئی صورت ہی نہ رہی ذہانت بھی عجیب چیز ہے میں تو کہا کرتا ہوں کہ ذہانت توخدا کی نعمت ہے بشرطیکہ اس کا استعمال محل پر ہو ۔