ایک صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ مجھکو تو تمہاری ان نا لائق حرکتوں سے اذیت ہوتی ہے جسکو میں تو یہ سمجھ کر برداشت کر سکتا ہوں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام اصلاح کے لئے اذیتیں سہتے تھے ہم تو کیا چیز ہیں ہماری ہستی اور وجود ہی کیا ہے سو میں تو اپنے دل کو اس طرح سمجھا سکتا ہوں لیکن اس میں آپ لوگوں کا تو ضرر ہے اسکے متعلق آپ نے کیا تسلی سوچی ہے اگر آپ ایذا نہ دیتے اور یہاں بیٹھتے تو مفید مفید باتیں سنتے ان سے نفع ہوتا جو اصل مقصود ہے مجانست و مصاحبت سے رہا برکت کا خیال اور مجالست سے اسکا قصد سو اگر خواجہ معین الدین قطب الدین بختیار کاکی بابا فرید گنج شکر یہ سب بھی ہو جائیں تو اتنی برکت نہ ہوگی ـ جتنی قرآن شریف سے برکت ہوگی اور میں بیچارہ تو کس شمار میں ہوں اس لئے کہ آدمی تو گوشت اور پوست اور قاذورات کا مجموعہ ہے قرآن شریف تو نور ہی نور ہے بلکہ نور علی نور ہے سو ایک قرآن مجید آتھ آنہ بارہ آنہ میں خرید لو برکت حاصل ہو جاوئے گی سو برکت اور چیز ہے اصلاح اور چیز ہے لوگوں کو اسکا اہتمام نہیں اور مجھ کو اسکا اہتمام ہے یہ حاصل ہے میرے اور عام لوگوں کے اختلاف کا مگر اس تجربہ کے بعد اب میں بھی اس طرز کو غالبا چھوڑ دوں کیونکہ جب کوئی نفع نہیں تو کیوں خود اذیتیں اٹھاؤں اور کیوں دوسروں کو تکلیف پہنچاؤں اور لوگوں کے عدم اہتمام کیوجہ یہ ہے کہ اسکی اہمیت انکی نظر میں نہیں چناچہ لوگ عالم بننا چاہتے ہیں بزرگ بننا چاہتے ہیں مگر انسان بننا کوئی نہیں چاہتا مٹنا اور فنا ہونا کوئی نہیں چاہتا ارے بندہ خدا کیوں اس طریق کو بھی بدنام کرتے ہو مدتوں کے بعد طریق زندہ ہوا ہے کیا پھر یہ چاہتے ہو کہ یہ مٹ جائے اور گم ہو جائے اور عوام کی شکایت ہی کیا اہل علم اس بلا میں مبتلا ہیں کہ اصلاح کی فکر نہیں جنکی بدولت علم کی جگہ جہل ہو گیا بزرگی کی جگہ فسق ہو گیا اور مدارس میں جا کر دیکھ لو کہ طالب علم اور اساتذہ کا کیا رنگ ہے نہ حدود ہیں نہ انسانیت اور آدمیت ہے کہتے ہیں کہ مولوی ہو کر سب درست ہو جائینگے ارے نا دانو ! اور بگڑ جائیں گے اسوقت تو دوسروں کے ماتحت ہیں جب ابھی ٹھیک نہ ہوئے تو آئندہ مختار ہو کر کیا امید ہے اس وقت تو کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکے گا کہ مولانا آپ سے یہ کوتاہی ہوئی یا آپ نے مسئلہ کا خلاف کیا درست ہونے کا تو یہ ہی وقت ہے مگر ان باتوں کی طرف مطلق لوگوں کو خیال نہیں اور طلباء بیچارے کس شمار میں ہیں اکثر انکے بڑونکی یہی حالت ہے ایک شخص لکھے پڑھے ممتاز لوگوں میں سے یہاں پر معافی چاہئے کے لئے آئے میرے متعلق انہوں نے ایک تحریر میں تہذیب کے خلاف الفاظ قلمبند فرمائے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ معافی سے مقصود کیا ہے آیا عدم مواخزہ آخرت یا کچھ اور کہا کہ جی ہاں میں نے کہا اس درجے میں معاف ہے آپ سے نہ دنیا میں انتقام لیا جائے گا نہ آخرت میں بالکل بے فکر رہیئے عفو با معنی عدم الانتقام حاصل ہو گیا رہا رنج وہ اس معافی سے زائل نہیں ہوا مجھ کو آپ سے رنج تھا اور ہے اور رہے گا مجھ کو انقباض تھا اور ہے اور رہے گا مجھکو شکایت تھی اور ہے اور رہے گی اس پر کہا کہ اسکا کوئی حرج نہیں دیکھئے یہ محبت ہے نہ معلوم پھر دعوی ہی کیوں کرتے ہیں محبت کا اور کسی بنا پر معافی چاہئے آئے تھے یہ حالت تو انکی ہے جو اصلاح شدہ اور سنورے ہوئے کہلاتے ہیں معلوم نہیں ان کے بگڑے ہوئے کیا کچھ ہونگے اس تھوڑے سے عرصہ میں کایا پلٹ ہوگی افسوس ہوتا ہے اب اپنے بزرگوں کا رنگ ہی نظر نہیں آتا اللہ تعالی رحم فرمائیں ـ
