ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہر کام ہر بات میں احتیاط کا پہلو اختیار کرتا ہوں مجھ کو اس پر وہمی کہا جاتا ہے ایک مرتبہ حضرت مولانا گنگوہی سے میری شکایت کی گئی کہ یہ جلسہ میں آکر مدرسہ کی رقم سے کھانا نہیں کھاتا حضرت مولانا نے مجھ سے سوال کیا میں نے صاف عرض کر دیا مجھ کو اس کے رقم سے کھانا نہیں کھاتا حضرت مولانا نے مجھ سے سوال کیا میں نے صاف عرض کر دیا مجھ کو اس کے جواز میں شبہ ہے پھر حضرت نے کچھ نہیں فرمایا کہ ایک شخص نے میرا وعظ سن کر سو روپیہ چندہ بلقان میں دیئے اور انجمن ہلال احمر میں داخل کئے اور احمق نے مجھ پر تقاضا کیا کہ قسطنطنیہ سے اس کی مستقل دسید منگا کر دو ورنہ روپیہ واپس دو میں نے قطع شغب کے لئے اپنے سے روپیہ دے دیا ایک مولوی صاحب نے یہ سن کر مجھ سے فرمایا کہ اپنے پاس سے کیوں دیئے اور تمہاری معرفت جو چندہ بلقان جمع ہوتا اس میں سے سو روپیہ رکھ لئے ہوتے اور تاویل یہ کی کہ خاص اس کی دی ہوئی رقم تو واپس کر دینا جائز ہی تھا اور وہ رقم اور دوسرے چندہ کی رقمیں سب ایک ہی حکم میں ہیں کیا ٹھکانہ ہے اس بد احتیاطی کا نفسانی غرض کا جب غلبہ ہوتا ہے ایسی ہی سوجھتی ہیں میں تو اکثر کہا کرتا ہوں کہ اموال کے باب میں اکثر اہل علم کو بھی احتیاط نہیں الا ماشاءاللہ اور عوام کو تو کیا ہوتی ـ
