ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مدارس اس طریق میں مناسبت پر ہے نفع بدون مناسبت کے نہیں ہو سکتا اسی واسطے جس سے مناسبت نہیں ہوتی میں صاف کہہ دیتا ہوں کہ تم کو یہاں پر نفع نہ ہوگا کسی دوسری جگہ جا کر تعلق پیدا کر لو اور اگر تم ایسی جگہ کا پتہ پوچھو گے میں بتلا دونگا یہ تو تعلق خاص کے شرائط ہیں باقی خدمت سے کسی کی بھی انکار نہیں گو کسی سلسلہ کا ہو چناچہ حاجی شاہ وارث علی کے ایک مرید یہاں پر آئے مجھ سے کہا کہ حضرت نے یعنی حاجی صاحب نے فرمایا کہ وہاں جا کر مثنوی پڑھو سنو میں نے کہا کہ آج کل مثنوی ہو رہی ہے سن لیا کرو مگر ایک ضروری بات سن لو کہ ہم لوگ حاجی صاحب کے معتقد نہیں ہم انکے مسلک اور طریق کو پسند نہیں کرتے کبھی کبھی ہماری مجلس میں انکی شکایت بھی ہوتی ہے ممکن ہے کہ تم کو برا معلوم ہوا بھی اطلاع کر دیتا ہوں کہا کہ آپ جانیں وہ جانیں مجھے اس سے کیا غرض میں تو دونوں کو اپنا بڑا اور بزرگ کر دیتا ہوں کہا کہ آپ جانیں وہ جانیں مجھے اس سے کیا غرض میں تو دونوں کو اپنا اور بزرگ سمجھتا ہوں چناچہ وہ شخص یہاں پر بہت روز رہے آدمی سمجھدار تھے خدا معلوم کس طرح پھنس گئے ایک روز بدون اطلاع کئے ہوئے چلدئے یہ بے ڈھنگا پن پیر کے فیض کا اثر تھا ـ
