(ملفوظ 292) حضرت مرزا جانجاناں مظہر کی حکایات لطافت :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگوں میں ایسے لطیف المزاج گزرے ہیں کہ بادشاہوں کی بھی ان کے سامنے کوئی حقیقت نہ تھی جیسے حضرت مرزا مظہرجان جاناں ایک مرتبہ بادشاہ زیارت کو آئے اور ان کو پیاس معلوم ہوئی اس وقت کوئی پاس نہ تھا اس لئے بادشاہ خود اٹھے اور صراحی پرکٹوارہ ڈھک دیا اور بیٹھ گئے مگر بادشاہ کو خود پانی لیکر پینا نوجہ خلاف عادت ہونے کے گراں ہوا اس لئے عرض کیا کہ اگراجازت ہوتوخدمت کیلئے کوئی آدمی بھیج دوں فرمایا کہ کیا ضرورت ہے بادشاہ نے اصرار کیا اس فرمایا کہ ایسا آدمی ہوگا جیسے آپ خود ہیں دیکھئے صراحی پر کٹورا ٹیڑھا ڈھک دیا ہے اسی وقت سے سر میں درد اور طبیعت پریشان ہے یہ ہی حالت لطافت کی حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کی تھی ایک مرتبہ نائی حجامت بنانے آیا اس نے استرہ وغیرہ کو دھولیا پھر حاضرین سے فرمایا کہ دھو کرتو لایا ہی ہوگا مگر جب اگلے کو ( یعنی دوسرے کو ) نکوچ ہی ہو ( یعنی کاوش ہو ) توبیچارہ کیا کرے حضرت کی بھی عجیب ہستی تھی بیحد تحمل ووقانہ کبھی ہنسی کی آواز سنی گئی نہ کبھی غصہ کی آواز سنی گئی اس قدر تحمل تھا بڑے لوگ بڑے ہی ہوتے ہیں کوئی کیا ان کی ریس کرسکتا ہے ایک مرتبہ مولوی سید صاحب برادر ملوی حسین احمد صاحب نے چاۓ کا انتظام اپے متعلق کر رکھا تھا ایک روزحضرت نے پیالی منہ سے لگا کر فرمایا کہ کچے پانی کا اثر ہے چاۓ میں انہوں نے دوسرے وقت خوب جوش دیا پھر بھی فرمایا وہ حیران تھے بدرجہ بعید ان کو احتمال ہوا کہ پیالی دھو کر تولیہ سے خشک نہیں کی اسلۓ پیالی کو خوب خشک کیا اس میں پی کر فرمایا کہ اس میں وہ اثر نہیں میں کہتا ہوں کہ بادشاہوں کی لطافت میزاج کی کیا حقیقت ہے ایسے حضرات کے سامنے ِۤ۔