( ملفوظ 507)حضرت نانوتوی کا طریقہ اصلاح

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا یہ مقلولہ سنا ہے کہ جس کا پیر ٹرا نہ ہو اس مرید کی اصلاح ہو نہیں سکتی ـ مولانا احمد حسن صاحب امروہی بڑے نازک مزاج تھے عالی خاندان تھے دیوبند پڑھنے آئے مولانا نے دیکھا کہ صلاحیت ہے ان میں ، عالی وماغ ہیں اب تربیت بھی ساتھ ساتھ شروع فرمادی حضرت ان کو چاہتے بہت تھے مگر اصلاح میں ذرا رعایت نہ فرماتے تھے کہ کوئی جولاہہ آتا دعوت کرنے فرماتے کہ ایک لڑکا بھی ساتھ ہوتا وہ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا یہ مقلولہ سنا ہے کہ جس کا پیر ٹرا نہ ہو اس مرید کی اصلاح ہو نہیں سکتی ـ مولانا احمد حسن صاحب امروہی بڑے نازک مزاج تھے عالی خاندان تھے دیوبند پڑھنے آئے مولانا نے دیکھا کہ صلاحیت ہے ان میں ، عالی وماغ ہیں اب تربیت بھی ساتھ ساتھ شروع فرمادی حضرت ان کو چاہتے بہت تھے مگر اصلاح میں ذرا رعایت نہ فرماتے تھے کہ کوئی جولاہہ آتا دعوت کرنے فرماتے کہ ایک لڑکا بھی ساتھ ہوتا وہ خوشی سے قبول کر لیتے کہیں چٹائی پربیٹھ کر اور کہیں کمبل پر بیٹھ کر روٹی کھانی پڑتی اس میں ترک تکلف کی عادت ڈالنا مقصود تھا ایک گاؤں والا ایک گاڑھے کا تھان حضرت مولانا کے واسطے لایا حضرت نے درزی کو بلا کر فرمایا کہ اس میں سے لڑکے کے واسطے کرتہ پاجامہ قطع کر کے سی دو ان کو معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کسی نے بندوق ماری ہو مگر پھر پہننا پڑا اور سب تکلف طبیعت سے رخصت ہوا گو لطافت اس وقت بھی رہی لطافت تو فطری چیز ہے مگر کبر کا نام و نشان نہ تھا غرض اصلاح اس طرح ہوتی ہے اور گو اس متشدد طریق سے اصلاح کرنے کی ہمارے بزرگوں میں کثرت نہ تھی مگر اس وقت اس کی ضرورت بھی نہ تھی کیونکہ پہلے طالبوں کی طبیعتوں میں سلامتی تھی اور اب نہیں فرق کی وجہ یہ ہے ـ