ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کے یہاں مجھ پر ڈانٹ پڑی تھی میں رات کو پہنچا تو بہت خفا ہوئے کہ یہ وقت آنے کا ہے تم کو خدا کا خوف نہ آیا تم کو زمین نہ نگل گئی میں نے دل میں کہا کہ جو چاہو کہہ لو ہم تو سننے ہی کے واسطے آئے ہیں اس وقت تو اس کا استحضار تھا ۔
تو بیک زخمے گریزانی زعشق تو بجز نامے چہ میدانی زعشق
اللہ کا شکر ہے کہ مجھ کو برا نہیں معلوم ہوا مولانا کی باتیں عجیب ہوتی تھیں ایک شخص نے مولد کے متعلق سوال کیا فرمایا کہ میاں ہم تو ہر وقت مولد ہی میں رہتے ہیں ۔
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
پڑھتے ہیں اگر آپ کی ولادت نہ ہوتی تو یہ کلمہ کہاں نصیب ہوتا ایک شخص نے سوال کیا کہ حضرت اور معاملات میں تو دو شاہد کافی ہیں زنا میں چار شاہدوں کی شرط کیوں ہے فرمایا کہ وہ فعل بھی تو دو کا ہے اور مگر نکتہ کے درجہ میں ہے ۔
