( ملفوظ 306) مولانا اسماعیل شہید کی ایک عبارت پر شبہ کا حکیمانہ جواب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولانا احمد علی صاحب سہارنپوری ہمارے اساتذہ میں سے ہیں ـ ان سے کسی نے یہ اعتراض کیا کہ مولانا شہید صاحب نے لکھا ہے ـ کہ خدا اگر چاہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے سینکڑوں بنا ڈالے اور محاورہ میں بنا ڈالنا تحقیر کے لئے اور تحقیر حضور کی کفر ہے ـ مولانا احمد علی نے فرمایا کہ تحقیر فعل کی ہے یعنی بنانا مشکل نہیں ـ مفعول کی نہیں تو حضور کی تحقیر وہ کوڑ مغز کیا سمجھتا ہے اس جواب کو اور کیا قدر کرتا کہنے لگے آپ لوگ بناتے ہیں ـ تحقیر صاف ہوئی یہ حضرات بڑے متین ہوتے ہیں ـ مولانا خاموش ہوگئے ـ ایک مرتبہ اتفاق سے وہی صاحب مولانا سے کہنے لگے کہ حضرت فلاں فلاں کتاب آپ نے چھاپی اگر بیضاوی چھپوا ڈالتے تو اچھا ہوتا مولانا نے فرمایا کہ جناب یہ ڈالنا وہی ہے جس پر مولانا شہید صاحب پر فتوی دیا گیا تھا ـ اس سے تحقیر ہوئی بیضاوی کی اور بیضاوی مشتمل ہے قرآن پر اور کل کی تحقیر مستلزم ہے جزء کی تحقیر کو اور قرآن کی تحقیر کفر ہے ـ اب بتلایئے کیا جواب ہے ـ اب وہ صاحب کہتے ہیں کہ حقیقت میں میرا مقصود فعل ہی کی تحقیر تھی ـ مفعول کی نہ تھی ـ نہایت عجیب جواب ہے محققانہ جواب ہے ـ حکیمانہ جواب ہے ـ اس میں مناظرانہ طرز نہیں اور یہ طرز بہت مفید ہوتا ہے ـ