(ملفوظ 364)حضرت شیخ سعدی کی حکمت

ایک مضمون کے سلسلہ میں فرمایا کہ شیخ سعدی علیہ الرحمتہ بڑے حکیم ہیں ہر معاملہ میں ان کا کلام موجود ہے حتی کہ سلطنت کے معاملات میں بھی رائے دیتے ہیں میرا تو خیال ہے کہ آج کل اہل حکومت شیخ ہی کی تعلیم اور تجربات کا اکثر حصہ لیے ہوئے ہیں جس پرعمل درآمد ہے اچھی بات پرکوئی بھی عمل کرے اس کا فائدہ پہنچتا ہی ہے اگر اہل حکومت مسلمان ہوتے تواور بھی نورعلی ہوتا ایک صاحب نے عرض کیا کہ شیخ علیہ الرحمتہ نے باوجود اس کے سلطنت نہیں کی مگر پھر بھی اس قدر تجربات بیان فرمائے کہ ورشن دماغ تھے جب اللہ کی اطاعت ہوتی ہے قلب میں ایک نور ہوتا ہے شیخ نے جس قدر سلطنت کی بقاء کی تدابیر بیان فرمائی ہیں نہایت حکیمانہ ہیں اگرایسی تدابیر حدود شریعت کے ماتحت اختیار کی جائیں کوئی حرج نہیں بلکہ ایک خاص برکت ہوتی ہے اور شریعت کے تجاوز کرنے سے فی الحال بے برکتی اور فی المآل زوال ہوتا ہے اور حاصل اکثر تدابیر کا یہ ہے کہ لا یخدع ( بصیغہ معروف ) ( کسی کودھوکہ نہ دے ) ولا یخدع ( بصیغہ مجہول ) کسی سے دھوکہ نہ کھاوے )۔