( ملفوظ 407) حضرت شیخ الہند کا حضرت تھانوی کے بارے میں ایک قول

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگوں نے اسی زمانہ تحریک میں میری شکایت حضرت مولانا دیوبندی رحمتہ اللہ علیہ سے کی کہ وہ اس تحریک میں شریک نہیں ـ حضرت مولانا نے فرمایا کہ ہم کو اس پر بھی فخر ہے کہ ایسی ہمت کا بھی ہمیں میں سے ہے کہ جس نے تمام ہندوستان بلکہ دنیا کی پرواہ نہ کی جو اس کی رائے میں حق ہے ـ اس پر استقلال سے قائم ہے ـ کسی دباؤ یا اثر کو ذرہ برابر حق کے مقابلہ میں قبول نہ کیا ـ پھر تحریک فرد ہونے کے بعد کثرت سے لوگوں کے خطوط طلب معافی میں آئے ـ میں نے لکھ دیا کہ معافی کے متعلق تو عذر نہیں بقول غالب
سفینہ جبکہ کنارہ پہ آ لگا غالب خدا سے کیا ستم و جور نا خدا کہئے باقی دل ملنے کے متعلق وہ بات ہے جس کو شخ علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں ـ
بسا لے زجورت جگر خوں کنم بیک ساعت از دل بروں چو کنم
( سال بھر تک تیرے مظالم سہہ کر جگر خون کروں تو ایک گھڑی میں ساری کلفت کو دل سے کس طرح نکال دوں ـ )