ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں ایک مرتبہ گنگوہ حاضر ہوا ـ حضرت کی شفقت کی یہ حالت تھی یہ فرمایا کہ تم جب آجاتے ہو ـ دل تازہ ہو جاتا ہے ـ میں نے واپسی کی اجازت چاہی کہ حضرت جاؤں فرمایا کہ اتنی جلدی میں نے کہا کہ کپڑے میلے ہوگئے ہیں ـ زیادہ ٹھرنے کے ارادہ سے نہیں آیا تھا ـ فرمایا کہ کپڑے تو ہم دیدیں گے میں نے عرض کیا کہ حضرت اور بھی کام ہے ـ پھر حضرت نے کچھ نہیں فرمایا ـ حضرت کے کپڑے پہننے کو جی نہیں چاہا ـ بے ادبی معلوم ہوئی ـ
