(ملفوظ 388)حضرت عمرکے عارف کامل ہونے کی شان

ایک گفتگو کے سلسلہ میں فرمایا کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے عارف کامل ہونے کی شان اس سے معلوم ہوتی ہے کہ بعد فتح فارس کے جب وہاں کے خزائن حاضر کئے گئے
(اوریہ سلطنت بہت ہی مالدار تھی اور خزانہ اس کا برابرمحفوظ چلا آتا تھا ) اور وجہ اس کی یہ تھی کہ اس سلطنت پرکسی نے چڑھائی نہ کی تھی اورخزائن کو دیکھ کر حضرت عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اے اللہ آپ کا ارشاد ہے : زین للناس حب الشھوات من النسآء والنبین والقناطیرالمقنطرۃ من الذھب والفضۃ ، ( خوش نما معلوم ہوتی ہے لوگوں کو محبت مرغوب چیزوں کی عورتیں ہوئی بیٹے ہوئے لگے ہوئے ڈھیر ہوئے سونے اور چاندی کے ) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں کی طرف میلان اور رغبت اوران کی محبت آپ نے طبعی طور پرنفوس میں رکھی ہے یہ ایک خاص تفسیر پرمبنی ہے کہ تزئین کا فاعل اللہ تعالٰی کو قرار دیا جاوے اور اس صورت میں یہ تزئین حکمت کے لئے ہوگی خواہ وہ حکمت کچھ ہی ہو اور جب یہ محبت طبعی ہے تو اس سے ہم بھی بری نہیں اور نہ اس کے ازالہ کی ہم دعاکرتے ہیں البتہ یہ ضرور دعا کرتے ہیں کہ اس کی محبت معین ہوجائے آپ کی محبت میں اللہ اکبر ان حضرات کی حقائق پرکیسی نظر تھی ۔