آج صبح دس بجے والی گاڑی سے دو صاحب حاضر ہوئے بعد مصافحہ حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ کہاں سے آتا ہوا اور کس غرض سے ؟ عرض کیا کہ کلکتہ سے حاضری ہوئی اور بمبئی ہوکر حج کا ارادہ ہے اور یہاں پرحاضری کی غرض محض حضرت والا کی زیارت ہے دریافت فرمایا کہ یہ دوسرے صاحب کون ہیں ؟ عرض کیا کہ یہ میرے عزیزہیں فرمایا آپ کبھی اس سے قبل مجھ سے ملے ہیں ؟ عرض کیا کہ یہاں ایک مرتبہ حاضرہوا تھا فرمایا کہ بلکل یا د نہیں میرا حافظہ زیادہ قوی نہیں ۔ بعض لوگوں کا حافظہ غضب کا ہوتا ہے ایک عالم بزرگ حافظ محمد عظیم تھے پشاوری جو نابینا بھی تھے ان کے پوتے دیوبند میں درسیاست سے فارغ ہوکر یہاں پرآئے بھی تھے یہ معلوم ہوا کہ ان کے پوتے ہیں بے حد جی خوش ہوا اس لئے کہ میں پہلے سے حافظ صاحب کا معتقد تھا ایک صوبہ دار تھے میرے ہم نام کا نپور میں انہوں نے حافظ صاحب کے حافظہ کے متعلق مجھے بیان کیا تھا کھ دس برس بعد بھی اگرکوئی مصافحھ کرتا فورا لگنے سے بتلا دیتے ہیں اور ان کان بینا ہونا بھی عجیب ہی طرح پر ہوا تھا ۔
ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی حضور نے فرمایا کہ کچھ مانگو عرض کیا کہ حضور ملے گا جومیں مانگو گا فرمایا ہم اللہ سے دعا کریں گے عرض کیا کہ تمنا یہ ہے کہ اب آپ کو دیکھا ہے اس کے بعد ان آنکھوں سے کسی کو نہ دیکھو اگر دیکھوں تو آپ ہی دیکھو صبح کو سوتے سے اٹھتے تو نا بینا تھے مگر اکثر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی رہتی تھی ۔ اپنی آنکھوں کو نثار کردیا کتنی بڑی محبت کی بات ہے ایک صا حب نے عرض کیا کہ حافظ صاحب کے پوتے جو جہاں یہاں پرآئے تھے کیا حضرت سے بیعت بھی ہوگئے ہیں فرمایا کہ بیعت ہی ہونے آئے تھے میں نے بیعت کرلیا۔
