ایک صاحب نے ایک شخص کے متعلق عرض کیا کہ حضرت سے وہ شخص سال بھرکے مرید ہونے کا ارادہ کررہے ہیں مگر یہ کہتے ہیں درخواست کرتے ہوئے خوف معلوم ہوتا ہے فرمایا کہ اس شخص کے قلب میں طریق کی وقعت اور عظمت ہے یہ بھی غنیمت ہے اس معاملہ میں ان لکھوں پڑھوں سے تو یہ گنوارہی اچھے ہیں ان کی جوبات ہوتی ہے بیساختہ اور سادگی سے اورخلوص لئے ہوئے ہوتی ہے حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ سے ایک شخص گاؤں کا رہنے والا مرید ہونے آیا حضرت نے جیسا طریقہ ہے بیعت کا معاصی سے توبہ کرائی اورنماز وغیرہ کی پابندی کا امر فرما دیا وہ کہتا ہے کہ مولوی جی جن باتوں سے تم نے توبہ کرائی ہے یہ کام تومیں کبھی کرتا بھی نہیں اور جو کرتا ہوں اس کی توبہ کرائی بھی نہیں حضرت نے دریافت فرمایا وہ کیا ہے کہتا ہے کہ میں افیم کھاتا ہوں فرمایا اچھا یہ بتلا کتنی کھاتا ہے اتنی میرے ہاتھ پررکھ دے اس ارشاد کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت حضرت کی بینائی نہ رہی تھی چنانچہ اس نے ایک گولی بناکر ہاتھ پررکھ دی حضرت نے اس کا ایک حصہ توڑ کر اس کودکھلایا کہ اتنی کھالیا کر پھر تھوڑے روز بعد اور کمی بتلادی جاوے گی اس کی وجہ یہ تھی کہ افیون کے دفعتہ چھوڑنے سے بہت تکلیف ہوتی ہے وہ کہتا ہے کہ جی جب توبہ کرلی پھراتنی اور اتنی کیسی اور ڈبہ افیم کا جیب سے نکال دور پھینک کرمارا کہ جا افیم میں نے تجھے چھوڑدیا اوراپنے گاؤں کو چل دیا گھر پہنچ کردست آنے شروع ہوگئے حضرت مولانا سے دعاء کے لئے کہلا کر بھیجا کرتا کہ میں اچھا ہو جاؤں کچھ عرصہ بعد تندرست ہوکر آیا اوربعد تعارف دو روپیہ حضرت کی خدمت میں پیش کئے بعد اصرار حضرت نے قبول فرمالئے کہتا ہے کہ مولوی جی روپئے تولے کررکھ لئے اوریہ پوچھا بھی نہیں کہ کیسے ہیں حضرت نے دریافت فرمایا اب بتلادے کیسے ہیں کہتا ہے کہ میں دو روپیہ ماہوار کی افیون کھاتا تھا اس کے چھوڑ دینے پرنفس بڑا خوش ہوا کہ اب دو روپیہ ماہوار بچا کریں گے بڑا فائدہ ہوا میں نے کہا کہ تجھے خوش نہ ہونے دوں گا یہ دو روپے اپنے پیر کو دیا کروں گا اب یہ اپنی زندگی تک دیا کروں گا میں کہتا ہوں کہ اس دقیقہ کی طرف شیخ کامل کا ذہن پہنچے تو پہنچے نفس کے کید خفی کو کیسا سمجھا اور اس گنوار نے کیسے خلوص کے ساتھ توبہ کی تکلیف کا نام تک نہیں سلف میں البتہ بڑے بڑے لوگوں کی ایسی نظیریں موجود ہیں مثنوی مولانا رومی می ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی پربڑی جدوجہد کے بعد غلبہ پایا اوراس کے سینے پرچڑھ کربیٹھ گئے تلوار سے اس کا کام تمام کرنا چاہتے تھے کہ اس نے آپ کے منہ پرتھوک دیا آپ چھوڑ کرالگ ہوگئے اس یہودی کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی اس کے دریافت کرنے پر فرمایا کہ ہمارا جو کام بھی ہوتا ہے اللہ کے واسطے ہوتا ہے نفس کے واسطے نہیں ہوتا جب تک تجھ کو پچھاڑا اور تلوار تیرے قتل کوا ٹھائی یہ سب اللہ کے لئے تھا جب تونے منہ پر تھوک دیا تو ایک نیا غصہ پیدا ہوا اس لئے شبہ پیدا ہوگیا کہ اب کہیں اس کا قتل نفس کے واسطے نہ ہو اس لئے چھوڑدیا وہ یہودی ایمان لے آیا اب بھی اللہ کے بندے مخلص ہیں گو کم سہی ابھی کا واقعہ ہے کہ یہاں ایک مسجد جولا ہوں کے محلہ میں ہے وہاں کے مہتمم کی درخواست پرکہ وہ بھی جولا ہے ہی ہیں اور غریب آدمی ہیں آٹھ روپیہ میں نے مسجد کی مرمت کی مد میں دیئے اور یہ کہ دیا کہ فی الحال اتنا ہی انتظام ہوسکا بقیہ کا کچھ اور انتظام کرلیا جاوے انہوں نے اس میں سے سات ورپیہ رکھ لئے اور ایک روپیہ واپس نہ کرتے بعض طبیعتیں سلیم ہوتی ہیں ابوالحسن نوری ایک بزرگ ہیں ایک بار دریا کے کنارے کنارے جارہے تھے دیکھا کہ ایک کشتی سے شراب کے مٹکے اتررہے ہیں معتصم باللہ کا زمانہ تھا اس کے لئے وہ مٹکے آئے تھے مگراس اطلاع کے بعد بھی عصا لے کرمٹکے توڑنے شروع کئے مٹکے دس تھے ان میں سے نو تو توڑڈالے اورایک چھوڑ دیا متصم باللہ کو اطلاع ہوئی یہ بزرگ بلوائے گئے معتصم بااللہ نے دریافت کیا کہ آپ نے مٹکے توڑے کیا آپ محتسب ہیں فرمایا کہ محتسب ہوں کہا کس نے محتسب بنایا فرمایا جس نے تم کو بادشاہ بنایا پوچھا احتساب کی سند فرمایا یہ آیت سند ہے یبنی اقم الصلوٰۃ وامربالمعروف وانہ عن المنکر واصبر علی مآاصابک دریافت کیا کہ پھر آپ نے نومٹکے توڑے ایک چھوڑ دیا اس کی کیا وجہ فرمایا کہ نومٹکے توڑنے تک حلوص رہا دسویں پر قلب میں عجیب پیدا ہوگیا تھا کہ ہم بھی ایسے ہیں کہ کسی سے نہیں ڈرتے چونکہ ہمارا ہرکام اللہ کے واسطے ہوتا ہے نفس کے لئے ایک کام بھی نہیں ہوتا اس لئے ایک مٹکا چھوڑ دیا یہ سن کر معتصم باللہ پرکچھ ایسی ہیت طاری ہوئی کہنے لگا کہ میں آج سے آپ کو باقاعدہ محتسب بناتا ہوں دیکھ لیجئے ان بزرگ کا جہاں ذہن پہنچا اس گاؤں والے کا ذہن جس نے افیم کھانے سے توبہ کی تھی وہاں تک پہنچا یہ ہیں وہ علوم جن کے متعلق فرماتے ہیں :
بینی اندر خود علوم انبیاء ٭ بے کتا ب وبے معید و اوستاد
( بیٹا نماز پڑھا کراور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پرجو مصیبت واقع ہو ، اس پر صبر کیا کرتم اپنے اندر بغیر کسی مدد گار اور استاد کے انبیاء علیہماالسلام جیسے علوم کا مشاہدہ کروگے ) ۔
