ایک چھوٹی بچی کی ذہانت کا ذکر فرماتے تھے فرمایا کہ جی چاہتا ہے کہ ایسی لڑکیوں کو عالم بنایا جائے خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت پہلے بھی عورتیں اہل علم گذری ہیں فرمایا کہ بڑی بڑی عالم گذری ہیں اکثر کو مردوں کے برابر تفقہ حاصل نہیں ہوتا کچھ کمی سی رہتی ہے مگر گذری ہیں اہل علم ، احقر جامع نے عرض کیا کہ ایک عورت نے پنجاب میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا ۔ فرمایا کہ پہلے بھی ایسی عورتیں گذری ہیں مامون رشید کے زمانہ میں ایک عورت نے نبوت کا دعوٰی کیا تھا اس سے کہا گیا کہ حضوﷺ فرماتے ہیں لانبی بعدی اس نے جواب دیا لانبی بعدی ہی تو فرماتے ہیں لا نبیۃ بعدی تو نہیں فرمایا میں نبی تھوڑا ہی ہوں میں تو نبیہ ہوں ۔ شرارت ہے کچھ بھی نہیں ۔
اسی طرح مامون رشید ہی کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا عویٰ کیا مامون رشید نے بلاکر پوچھا کہ نبی ہونے کا دعوٰی تو کیا ہے مگر یہ بتاؤ کہ کون سے نبی ہوکہا کہ موسیٰ ۔ مامون رشید نے کہا کہ انہوں نے تو عصاء کا معجزہ دکھایا تھا تم بھی دکھاؤ اس نے جواب دیا کہ فرعون کے مقابلہ میں ایسا ہوا تھا اس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا آپ نے معجزہ دکھایا اگر تم بھی خدائی کا دعوٰی کرو تو میں بھی معجزہ دکھاؤں لوگ بڑے ہی شریر ہوتے ہیں بعد میں مامون رشید کو معلوم ہوا کہ حاجت مند ہے اس کی حاجت پوری کرکے اس سے توبہ کرادی ۔ فرمایا کہ مامون رشید کو معلوم ہوا کہ حاجت مند ہے اس کی حاجت پوری کرکے اس سے توبہ کرادی ۔ فرمایا کہ مامون رشید کے مخاطبت میں لوگوں میں آزادی بہت تھی باوجود اس کے کہ نہایت جاہ جلال کا بادشاہ تھا مگر تھا نہایت حلیم ۔ اسی وجہ سے لوگ ایسی بے باکیان کرتے تھے اور مامون رشید ہی کا ایک اور قصہ ہے : ایک شخص اس کے پاس آیا اور سوال کیا کہ میں حج کوجارہا ہوں خرچ کی ضرورت ہے ، مامون رشید نے کہا کہ اگر تمہارے پاس ہے تو مانگتے کیوں ہواور اگر نہیں ہے تو حج ہی فرض نہیں ، پھرسوال کیوں کرتے ہوں ، اس نے جواب دیا کہ میں آپ کے پاس جوآیا ہوں بادشاہ سمجھ کر ہی آیا ہوں مفتی سمجھ کر نہیں آیا اس کام کے لئے شہرمیں علماء اور مفتی موجود ہیں اگر فتوے کی مجھ کو ضرورت ہوگی تو ان سے استفتاء کروں گا آپ زیادہ فتوے نہ بگھاریئے ، یہ مفتی نہیں اگر خرچ دینا ہے دیجئے ورنہ صاف انکار کردیجئے اس پر مامون رشید ہنس پڑا اور کافی خرچ حج کے لئے دیا ۔
فرمایا کہ مامون رشید کی حلم کی یہ حالت تھی کہ غلام تک د با لیتے تھے مگر افسوس کہ تھا معتزلی نے بہکا بہکا کر اس کو خراب کیا تھا اس قسم کے علماء ہرزمانہ میں ہوئے ہیں خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ معتزلیوں کا عقیدہ کیا ہے فرمایا ایسا ہی عقیدہ ہے جیسے آج کل کے نیچریوں کا عقیدہ ہے کہ جو بات عقل میں آگئی اس کومان لیا جو نہ آئی انکار کردیا یہ انگریزی کے نیچری ہیں اور معتزلی عربی کے نیچری تھے جیسے آج کل بھی بعضے عربی کے نیچری پید اہوئے ہیں ۔ پہلے معتزلی اپنے کو معتزلی نہ کہتے تھے اس لئے کہ یہ اہل حق علماء کا بطریق خدمت کے خطاب دیا ہوا ہے اس لیے معتزلی پہلے اپنے کو اہل عدل اور اہل توحید کہتے تھے یہ معتزلی لقب ایسا ہے جیسے رافضی مگر کوئی رافضی اپنے کو رافضی نہیں کہتا نہ لکھتا ہے ۔ مگر ایک نیچری کی کتا ب پرمیں نے لکھا دیکھا ہے کہ اپنے نام کے ساتھ معتزلی لکھا تھا اس نے یہ لکھ کر اپنی بے وقوفی اور حماقت کا اظہار کیا ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ہارون رشید بادشاہ کی حالت کیا تھی فرمایا کہ وہ دیندار شخص تھا اس کی ایسی حالت نہ تھی ۔
