ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل کے جاہل صوفی نہایت ؎
ہی نددین ہیں ان کا صرف ایک کام رہ گیا ہے وہ یہ کہ امردوں اور عورتوں سے
اختلاط بس یہ ہی ان کا تصوف رہ گیا ہے مراقبہ ہےتو اسی کا مکاشفہ ہےتو اسی کا استغراق ہے تو اسی کا یہ لوگ تو فاسق وفاجر ہیں اور پہلے لوگ بھی
بدعتی تھے مگر بد دین نہ تھے یہ تو حلف کا حال تھا اورسلف تو دین کے عاشق
تھے چنانچہ حضرت بایزید بسطامی کا واقعہ مثنوی کے دفتر چہارم کے نصف پرمذکور ہے کہ وہ سبحانی ما اعظم شافی کہہ دیتے تھے مریدوں نے ایک روز کہا یہ آپ کیا کہتے ہیں فرمایا کہ اگر اب کی مرتبہ کہوں تو مجھ جو چھریوں سے ماردینا مرید بھی ایسے نہ تھے جیسے آج کل کے ہیں چھریاں کے کر تیار ہوگئے ان سے غلبہ حال میں پھر وہی کلمہ نکلا کلمہ کا نکلنا تھا کہ چہارم طرف سے مریدوں نے مارنا شروع کیا مگر نتیجہ یہ ہوا کہ ان کوتو ایک زخم
بھی نہ آیا اور مریدین تمام اپنی ہی چھریوں سے زخمی ہوگئے ولانا اس کا راز
فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہیں کہتے تھے ایسے لوگ صاحب حال گزرے ہیں جن کی حالت مولانا کے اس قول کی مصداق ہوتی تھی
عشق آمد عقل او آوارہ شد صبح آمد شمع اوبیچارہ شد
عقل خود شحنہ است چوں سلطان رسید شحنہ بیچارہ در کنجے خزید
(صرف عقل اور سمجھ کو تیز کرنا راہ حق نہیں ہے حق تعالٰی کا فضل اسی کی دستگیری کرتا ہے جو شکستی اختیار کرے ۔ پرانی شراب بہت تیز ہوجاتی ہے خاص کروہ جومحبوب کے پاس کی ہو )
لیکن اس حالت میں بھی اگر کوئی فعل خلاف شریعت یا خلاف سنت سرزد ہوجاتا تھا تو اس پراصرار نہ تھا اس کو اسرار نہ سمجھتے تھے اور یہ سمجھنا تو بڑی چیز ہے ان کو اور الٹی ندامت اور شرمندگی ہوتی تھی بخلاف آج کل کے بدینوں کے بددینی پر فخر ہے ناز ہے اصرار ہے ضد ہٹ ہے ۔ استغفراللہ ۔
