ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کام اس قدر کرنا چاہئے جس کا تحمل بے تکلف ہوسکے ہرکام کے لیے اسی کی ضرورت ہے ہمت سے زائد اپنے ذمہ کام رکھ لینا عقل کے خلاف ہے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ایک مثال عجیب و غریب بیان فرمائی تھی کہ جس قدر کام کا ذوق وشوق ہو اس سے کچھ کام چاہئے اسی طرح جس قدر بھوک ہو اس سے کچھ کم کھانا چاہئے جیسے چکی کہ اس میں پھرانے کے وقت کچھ تاگہ چھوڑ دیا جاتا تاکہ وہ اس کے ذریعہ سے واپس آسکے اگرنہ چھوڑا جائے وہ لوٹ نہیں سکتی پھر از سرنو اہتمام کرنا پڑتا ہے اس مثال کی خوبی پرایک دوسری مثال کا قصہ بیان فرمایا گو وہ دوسرے باب کا مضمون ہے وہ قصہ مولوی محمد یسین صاحب والد مولوی محمد شفیع صاحب سے نقل فرمایا وہ مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس زیادہ بیٹھتے تھے اور دل کھلا ہوا تھا اس لئے جوجی میں آتا کہہ بھی دیتے ایک روز مولانا کے ایک مبسوط کلام کے بعد ان سے کہتے ہیں کہ کثرت کلام کو بزرگوں نے اچھا نہیں سمجھا اور آپ کثرت سے کلام کرتے ہیں یہ کیا بات ہے مولانا نے فرمایا کہ تقلیل کلام خود مقصود بالزات نہیں مقصود تویہ ہے کہ فضول کلام نہ ہومگر مبتدی ابتداء تعدیل پرقادر نہیں ہوتا اس لئے معالجہ کے درجہ میں بہت زیادہ تقلیل تجویز کرتے ہیں تاکہ اعااعتدال پرآجائے اس کی ایسی مثال ہے کہ کاغذ لپٹا ہوا رکھا ہوتا ہے جب اس کو کھولتے ہیں تو وہ پھر اسی طرح لپٹ جاتا ہے اس لئے اس کو اس طرح سیدھا کرتے ہیں کہ اس کو دوسری مخالف طرف اسی طرح لپیٹنے ہیں جس سے وہ سیدھا ہوجاتا ہے اسی درجہ میں ضرورت ہے تقلیل کلام کی ورنہ وہ خود مقصود بالذات نہیں مولانا کے علوم عجیب ہوتے تھے بڑی سے بڑی بات کو اس طرح پر بیان فرمادیتے تھے کہ ہرشخص جاتا تھا ۔
