(ملفوظ 273)ہندو اسسٹنٹ مینجر سے واقعہ ملاقات :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب حق تعالٰی کسی کام کوکرنا چاہتے ہیں اس کے اسباب اپنے فضل سے ویسے ہی پیدا فرماتے ہیں یہاں کے اسٹیشن ہی کا واقعہ ہے کس کس طرح کی کوشش ہوئی اور کیا کیا واقعات پیش آئے اہل قصبہ میں اورخصوص ان لوگوں میں جوکشاں تھے اتنی گنجائش نہ تھی کہ صرفہ برداشت کرسکتے ریلوے اپنے صرف سے بنانے کے لیے تیار نہ تھی مگر جب انہوں نے چاہا بن گیا اس دوران میں میں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ یہ ریل تھانہ بھون کی گلیوں میں پھر رہی ہے میں نے بھائی سے کہا کہ کوشش کئے جاؤ ان شاءاللہ اسٹیشن ضروربنے گا یہاں کے ہندو کہتے تھے کہ عبد الحق کی اولاد بنوا کر چھوڑا انگریزوں کے کہنے والے بھائی مراد ہیں اور اللہ سے کہنے والا میں مراد ہوں یہاں پرختم خواجگان ہوتا ہے اس میں اہل خانقاہ طلباء ذاکریں کی جماعت ہوتی ہے یہ سب صلحا کا مجمع ہے کئی سال تک ان کی مسلسل دعاء ہوتی رہی یہ ان ہی لوگوں کی دعاء کی برکت ہے اسٹیشن بننے کے بعد ریلوے کا ایک بڑا افسر یعنی اسسٹنٹ مینجر جوقوم کا ہندو اوروطن کا بنگالی اورمعاشرت کا انگریزتھا جواردو بھی نہ سمجھتا تھا یہاں آیا مجھ سے ملاقات کرنا چاہتا تھا مجھ سے آنے کی اجازت چاہی میں نے کہا کہ میں خود اس کے پاس جاکر مل لوں گا اس نے کہا کہ یہ خلاف ادب ہے میں نے کہا اول تو راحت رسانی میں ایک تویہ کہ اگروہ آیا تو اس کے لئے کرسی چاہئے ورنہ وہ اگر زمین پربیٹھے تومجھ کو برا معلوم ہوتا ہے دوسرے یہ کہ اگر میں ملنے گیا تومیں آزاد ہوں گا اور وہ پابند اور اگر وہ آیا تو میں پابند رہوں گا اور وہ ازاد تیسرے اس کے مہمان ہونے کا حق بھی ہے میرے جانے پرخوش ہوگا اورخلاق کے اعتبار سے اثر اچھا ہوگا غرض میں خود ہی گیا نہایت مسرور ہوا اور تواضع سے یہ حالت تھی کہ بچھا جاتا تھا پھر اس جملہ مذکورہ کے متعلق کہ راحت رسانی ادب ہے فرمایا کہ ادب تعظیم کونہیں کہتے ادب کہتے ہیں راحت رسانی کو پھر ادب کے تعلق سے تہذیب کا ذکر آگیا اس کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا کہ اس ہی ضلع میں ایک مقام ہے ککرولی وہاں بعض غرباء نے مجھے مدعو کیا تھا وہاں شیعہ رئیس اورزمیندارہیں میں مغرب کے وقت وہاں پہنچا میرے پہنچنے کے بعد ان لوگوں نے میرے پاس کہلا کر بھیجا کہ ہم ملاقات کرنا چاہتے ہیں ہم کو وقت بتلادیا جائے میں نے دوستوں سے کہا کہ انہوں نے یہ سوال کرکے اپنی تہذیب جتلائی ہے اب میں اس کے جواب میں اپنی تہذیب دکھلاؤں گا میں نے جواب کہلا کر بھیجا کہ مختصرملاقات تو اس وقت بھی ممکن ہے اور مفصل ملاقات صبح کو ہوسکتی ہے انہوں نے کہلا بھیجا ہم اسی وقت آنا چاہتے ہیں میں نے اجازت دیدی اور یہ بھی کہلا بھیجا کہ یہاں پرمیرے پاس غرباء کا مجمع کرسکتا ہوں مطلب میرا اس کہنے سے یہ تھا کہ ان لوگوں کو تہذیب کا بڑا دعوی ہوتا ہے ان کو بھی تو دکھلادوں کہ تہذیب ہے کیا چیز چنانچہ ان کو جس وقت میراجواب بہنچا ہے تڑپ ہی تو گئے کہ ہماری کس قدررعایت کی گئی ہے اور یہ کہلا کربھیجا کہ ہم غرباء ہی کے ساتھ بیٹھیں گے اور وہیں جاکر ملاقات کریں گے چنانچہ فورا جمع ہوگئے اورملاقات ہوگئی بسبیل گفتگو ان میں سے بعض حضرات نے بیعت کی بھی درخواست کی میں نے سوچا کہ کیا جواب دوں اگرعدہ کروں تو شیعہ رہتے ہوئے کیسے بیعت کروں اور اگر انکار کروں تو دل شکنی آخریہ جواب دیا کہ میں اس وقت سفر میں ہوں اور سفر میں بیعت کے شرائط کا فیصلہ نہیں ہوسکتا میرے وطن پہنچ جانے کے بعد خط وکتابت کیجئے میں ان شااللہ تفصیلی جواب دوں گا اس کے بعد کوئی خط نہیں آیا اگر آتا تویہی لکھتا کہ اس طریق میں نفع کے لئے مناسبت شرط ہے اور مناسبت اختلاف ، مذہب کی حالت میں غیرممکن لہذا سنی ہونے کے بعد بیعت کرسکتا ہوں مگر بعض لوگوں نے آج کل یہ عجیب طرز اختیارکیا ہے کہ طریق میں اسلام کو بھی شرط نہیں سمجھتے بعض جاہل اور دوکاندار پیروں نے ہندوؤں تک کومرید بنا رکھا ہے عجیب وغریب مشخیت ہے جہالت کا بھی کوئی قاعدہ نہیں اللہ بچائے جہل سے اس جہل ہی کی بدولت بہت سے جیل میں پڑے ہیں اور خوش ہیں اسی سلسلہ میں شیعہ کے ذکر کی مناسبت سے فرمایا کہ کانپور میں ایک وکیل کے پاس ایک سائل ایرانی آیا انہوں نے اس پوچھا کہ تم کون ہو کہا کہ سید اس نے کہا کہ مذہب کیا ہے کہا شیعی وکیل نے کہا شیعی کبھی سید نہیں ہوسکتا دیکھو سید کے شروع میں سین ہے اور شیعی کے شروع میں شین ہے ان میں کیا مناسبت البتہ جن کے شروع میں شین ہے جیسے شیطان ثمرذی الجوشن شرارت شیعی کو ان سے مناسبت ہے اس لئے تم شید ہو اورکہا کہ دیکھو سنی میں سین ہے سید میں سین ان میں مناسبت ہے ۔