ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اسلام احکام اسلام دونوں چیز فطری ہیں البتہ فطرت سلیم ہونا چاہیئے ایک ریاست میں ایک ہندو راجہ نے اذان کہنے پر فیصلہ کیا تھا ہندو اذان دینے سے تمہارا کیا حرج ہے عرض کیا کہ اذان سے ہمارے دیوتا بھا گتے ہیں راجہ نے وزیر کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ تم کو معلوم ہے کہ ایک گھوڑا تھا تمہارے یہاں وہ توپ کی آواز سے چونکتا تھا ہم نے اسکو میدان میں بندھوا کر اور اسکے پاس توپ لگا کر گولے چلوائے تو اس کی بدک نکل گئی تھی اسی طرح اگر دیوتا اذان سے بھا گتے ہیں تو اسکی بھی یہی ایک صورت ہے اذان کہلوائی جائے تاکہ انکی بدک نکلے اس لئے کہ کسی موقع پر اگر دیوتا ان کی امداد کی ضرورت ہوئی اور مسلمانوں نے پڑھ دی اذان تو سب بھاگ جائیں گے اس وقت ہم کو شکست ہوگی یہ فیصلہ دیا راجہ نے واقع میں اسلام کی طرف فطری کشش ہے اگر کوئی منع نہ ہو تو کافر بھی اسکو ہی قبول کرے پہلے ہندو اسقدر متشدد نہ تھے یہ ان آریوں نے عداوت کا بیج بویا ہے یہ آریہ جماعت مذہبی جماعت نہیں ہے بلکہ سیاسی جماعت ہے یہ ہندوں کے نیچری ہیں ـ
