( ملفوظ 253) ہندو مسلم اتحاد کی شرائط

ایک مولوی صاحب نے سوال کیا کہ حضرت اگر ہندو مسلمان باہم حاکم محکوم نہ ہوں ـ بلکہ باہم مساوات ہوتو اس وقت مل کر ہندوؤں کے ساتھ کام کر سکتے ہیں ـ فرمایا قواعد سے تو گنجائش معلوم ہوتی ہے مگر اس وقت تجربہ کی بنا پر یہ دیکھا جائیگا کہ اشتراک میں نفع کس کو ہوگا اور ضرر کس کا ـ سو یہ تجربہ یہی کہہ رہا ہے کہ اگر صرف ہندو مسلمان کے ہاتھ میں حکومت آجائے اور تیسری قوم کے بے دخل ہو جانے میں کامیابی بھی ہو جائے تب بھی وہ حکومت ہندوؤں کی ہوگی ـ مسلمانوں کی نہ ہوگی ـ ایک تو ترکیب کی خاصیت سے دوسرے ان کی اکثریت کی وجہ سے تیسرے ان کے طبائع کی حالت پر نظر کر کے اور عقلی طور پر بھی مقصود حکومت عادلہ آمنہ ہے اور ہندو مسلمانوں کے اشتراک میں یہ احتمال ہی نہیں کہ عدل ہو ، امن جیسا کہ ہندوؤں کی کارگزاریوں سے اس وقت ظاہر ہے کہ وہ مسلمانوں کیو ہندستان سے مٹانا چاہتے ہیں یہ اپنے اس دلی مزاق سے باز نہ آئیں گے ـ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فساد اور خونریزی ہوگی اور جو مقصود ہے حکومت سے وہ حاصل نہ ہو گا ـ اسی بناء پر میں نے تحریکات کے زمانہ میں ایک مولوی صاحب سے کہاتھا کہ اول تو کامیابی موہوم اور اگر ہوئی بھی تو ہندوؤں کی ہوگی ـ اگر مسلمانوں کو بھی ہوئی تو تم جیسے مسلمانوں کی نہ ہوگی ـ غور کرو کہ وہ کامیاب کس قسم کے مسلمان ہوں گے ـ بددین ملحد فرعون ہامان پھر دیکھنا تمہاری کیا گت بنتی ہے ـ
11 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ