ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر اختیار ایسا ہی سستا ہے کہ ہر مقصود کے لئے اس کا استعمال جائز ہو اس میں کوئی قید ہی نہ ہو تو اس درجہ میں تو حکومت بھی اختیاری ہے آزادی حاصل کریں ۔ یا بعنوان دیگر آج کل کی اصطلاح میں قربانی کریں اور یہ قربانی ایسی ہے کہ ذی الحجہ سے پہلے ذی قعدہ میں بھی ہو سکتی ہے مگر یہ دیکھ لیں کہ یہ حکومت دین کی ہو گی یا بددینی کی ۔ جس کا معیار حق تعالی کے فرمان سے معلوم ہو سکتا ہے :
” الذین ان مکنھم فی الارض اقاموا الصلوۃ و اتوا الزکوۃ و امروا بالمعروف و نھو عن المنکر وللہ عاقبۃ الامور ”
” یہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر ہم ان کو دنیا میں حکومت دیدیں تو یہ لوگ نماز کی پابندی کریں اور زکوۃ دیں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہیں اور برے کاموں سے منع کریں ۔ اور سب کاموں کا انجام تو خدا ہی کے اختیار میں ہے ”
اگر ایسی نیت ہے تو کوشش کریں یعنی حدود شریعت کا تحفظ شرط ہے مگر اب تو ایسا اطلاق ہو رہا ہے کہ شریعت کے خلاف ہو یا موافق ( اس کی پرواہ ہی ہیں ) تو ایسی حکومت تو فرعون اور شداد کو بھی حاصل تھی حکومت سے اصل مقصود اقامت دین ہے اور یہ تدابیر اس کے اسباب ہیں اگر دین مقصود نہیں جیسا آج کل کی حالت سے ظاہر ہے تو لعنت ہے ایسی حکومت پر ۔
