(ملفوظ 377)ہم ترقی کے دشمن نہیں

فرمایا کہ ہم کو ترقی کا دشمن کہا جاتا ہے حالانکہ ایسی دشمنی کو اپنی غرض کے لئے خود بھی پسند کرتے ہیں چنانچہ میں نے ایک صاحب سے سلسلہ گفتگو میں اس کی ایک مثال بیان کی تھی عجیب مثال ہے کہ باورچی آپ کا دس روپے کا ملازم ہے اس کو کسی شخص نے کہا کہ ہم تجھ کو بیس ورپیہ دیں گے تم ہمارے یہاں آجاؤ اوروہ اس کو قبول کرلے اور آپ کو معلوم ہوتو کیا کہیں گے آپ یہ ہی کہیں گے کہ بڑا ہی بے وفا تھا ہمارا کچھ بھی خیال نہ کیا اور اگر وہ انکار کردے اوراس دس روپیہ ہی پرقناعت کرے اور بعد میں اس واقعہ میں اس کی ترقی قبول کرنے پر آپ جفا اورترقی سے انکا ر کرنے پرخوش ہوئے سواگر علماء بھی رضائے حق کے واسطے ایسا ہی کریں تو ان پرکیوں الزام ہے یہ مثال سن کرہرمنصف پر بے حد اثر ہوگا اور بہت ہی خوش ہوگا (بشرط یہ کہ علماء بھی ایسے ہوں وقلیل ماہم ۔