ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل بدفہمی اوربدعقلی کا ایسا بازارگرم ہے کہ اچھے خاصے لکھے پڑھے لوگ ان علتوں میں مبتلا ہورہے ہیں ایک صاحب جویہاں دو تین روز سے مقیم تھے اوریہاں سے ابھی گئے ہیں دوپہر مجھ سے کہتے ہیں کہ فلاں فلاں کام کے لئے ایک تعویذ کی ضرورت ہے اور میں آج ہی چلا جاؤں گا مجھ کو بہت ہی ناگوار ہوا میں نے کہا کہ یہ کیا نامعقول حرکت ہے آخر کئی روز سے تمہارا قیام تھا عین چلنے کے وقت اوروہ بھی بے وقت تعویز کی فرمائش مگر خیر چونکہ نووارد تھے اتنی رعایت میں نے ان کی اب بھی کی کہ یہ کہہ دیا کہ بذریعہ خط تعویذ منگالینا اور ان بیچاروں کی کیا شکایت کی جاوے بعض لوگ یہاں پردس دس پندرہ پندرہ روز رہتے ہیں اورعین چلنے کے وقت دوتعویذ دیدو چارتعویذ دیدو میں کہتا ہوں کہ پہلے سے کیا مرگئے تھے جوچلتے وقت فرمائش کی آخر دوسرے کو بھی کچھ وقت دینا چاہئے اس کے مصالح اوروقت کی بھی تورعایت کرنی چایئے اس لئے کہ بعض وقت کسل ہوتا ہے یازیادہ مشغولی ہوتی ہے افسوس ہے میں توہربات میں سب کے مصالح کی رعایت کروں اوریہ ایسے نواب صاحب ہیں کہ ان کے حکم ہی کے ساتھ تعمیل ہوجاوے ایسی تعمیل توجہاں ہوتی ہوگی یہاں پرتوبجائے تعمیل کے بحمد اللہ تعلیم ہوتی ہے دماغوں میں سے خناس نکالا جاتا ہے بالخصوص یہاں پرمتکبروں کی اچھی طرح خبرلی جاتی ہے میں تواسی حسن معاشرے کی تعلیم پرکہا کرتا ہوں کہ یہاں پرآکردین توسیکھتے ہی ہو یہاں سے دنیا بھی سیکھ جاؤ ۔
