( ملفوظ 404) حسن معاشرت کی اہمیت اور اصول کی پابندی

ایک صاحب آسیب کا تعویذ لینے کے لئے سفر کر کے آئے درخواست پر حضرت والا نے فرمایا کہ میں عامل نہیں ہوں ـ یہ عاملوں کا کام ہے دوسرے یہ کام تو خط سے بھی ہو سکتا تھا بلا وجہ آپ نے اتنا لمبا سفر کیا اس لئے اگر میں تعویذ دیتا بھی تو اب نہ دوں گا ـ تاکہ تم نا کامیاب ہو جاؤ پھر تمہاری روایت سے لوگوں کو بھی واقعہ معلوم ہو جائے پھر اس واقعہ کو جو سنیں گے سب کا روپیہ اور وقت بچ جائے گا ـ اور اگر میں ایسا نہ کروں تو یہاں پر تو ایک ہجوم ہو جائے ـ اور پھر سوائے اس کے اور کوئی کام نہ ہو سکے ـ اور آپ سے تعجب ہے کیونکہ آپ تو اس قدر نا واقف نہیں جو ایسی فضول حرکت کی آخر خیریت کا تو خط پہلے سے لکھا ہی کرتے تھے ـ اس ہی میں یہ بھی معلوم کر لیا ہوتا اور جو لوگ محبت کا دعوی کرتے ہیں ـ ان ہی سے یہ شکایت ہے دوسروں کی کیا شکایت اور ان تعلیمات میں میں کسی کو اپنا تابع نہیں بناتا صرف یہ بات ہے کہ اصول صحیحہ کا میں خود بھی غلام ہوں اور دوسروں کو بھی اصول صحیحہ ہی کا غلام بنانا چاہتا ہوں مگر لوگوں کو اس سے وحشت ہوتی ہے چاہتے ہیں کہ وہی پرانے رواج کا برتاؤ کریں جس کی عادت ہے ـ اور طبیعت خوگر ہے مگر یہاں پر وہ باتیں نہیں چلتیں مدتوں کے بعد تو باب تعلیم معاشرت کھلا ہے ـ اب چاہتے ہیں کہ بند ہو جائے حسن معاشرت کو تو لوگوں نے دین کی فہرست سے نکال ہی دیا تھا ـ میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ ہر کام اصول کے ماتحت ہو اور یہ کہ کسی کو کسی سے اذیت نہ پہنچے اور یہ حالت رہے ـ
بہشت آنجا کہ آزارے نباشد کسے را با کسے کارے نبا شد
( بہشت وہی جگہ ہے جہاں کوئی تکلیف نہ ہو اور ( سب راحت سے ہوں حتی کہ کسی کو کسی سے کام بھی نہ ہو کہ دوسرے احتیاج بھی تکلیف کا باعث ہوتی ہے )
اور اس معاشرت کے خراب اور برباد ہونے کی وجہ سے ایک سے دوسرے کو سخت اذیت پہنچتی ہے اور باہمی الفت پیدا نہیں ہوتی میرے سارے انتظامی معمولات کا حاصل صرف یہی ہے کہ کسی کو اذیت نہ پہنچے تکلیف نہ ہو اگر کسی کو یہ طرز پسند نہ ہو وہ یہاں پر نہ آئے بلانے کون جاتا ہے ـ بقول غالب
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
ہزاروں مشائخ کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں وہاں جائیں بلانے کون گیا تھا اگر آتے ہو تو تمام اصول صحیحہ کا اتباع کرنا ہوگا ـ اور جو ہم کہیں کرنا پڑے گا ـ جس طرف اور جس طرح چلائیں گے ـ چلنا پڑے گا لوگوں نے طریق کو بچوں کا کھیل بنا رکھا ہے یہ طریق مردہ ہو چکا تھا ـ بحمد اللہ اب مدتوں کے بعد زندہ ہوا مجھ کو اس پر ناز نہیں مگر واما بنعمۃ ربک بحدث کو طور پر ذکر کرتا ہوں اس کا چودھویں صدی میں ایسے ہی پیر کی ضرورت تھی جیسا کہ میں لٹھ ہوں اور یہ کوئی ناز کی بات نہیں ـ اس لئے کہ جس سے چاہیں خدا تعالٰی اپنا کام لے لیتے ہیں ـ الحمدللہ میں نے ذوقیات اور کشفیات کو حسیات بنا دیا ہے ـ ان وجدنیات میں لوگ جن چیزوں پر ایمان بالغیب لاتے تھے اب وہ چیزیں کھلی آنکھوں نظر آتی ہیں اور اس طرز سے اصلاح یہ ایسی چیز ہے کہ میرے ایک اہل علم عزیز نے حضرت حاجی صاحب کو خواب میں دیکھا عرض کیا کہ حضرت دعاء فرمادیجئے گا کہ میں صاحب نسبت ہو جاؤں ـ حضرت نے فرمایا کہ صاحب نسبت تو تم ہو مگر اصلاح کی ضرورت ہے اور اپنے ماموں سے کراؤ ـ سو حضرت اصلاح تو اسی طرح ہو سکتی ہے باقی تمام دنیا کو کون خوش رکھ سکتا ہے اور خوش رکھنے کی ضرورت ہی کیا پڑی ہے جن کے خوش رکھنے کی انسان کو ضرورت ہے_
اس کی فکر چاہئے اور میں تو صاف کہتا ہوں تاکہ لوگوں کو دھوکہ نہ ہو کہ یہاں پر تو فقیری وقیری کچھ نہیں یہاں تو طالب علمی ہے اور ہم کو اسی میں فخر ہے کہ طالب علموں میں ہمارا شمار کیا جائے اور واقع میں بھی ہم فقیر کدہر سے ہیں ـ جب کھانے پینے میں خوب دل کھلا ہوا ہے فقیری کی تو شان ہوتی ہے کہ ایک بزرگ شب کو سامنے حلوہ رکھ کر نفس سے کہتے تھے ـ دو رکعت نماز نفل پڑھ لے پھر یہ حلوہ کھلاؤ گا پھر دو رکعت کے بعد ایسا ہی وعدہ کرتے تھے ـ تمام شب اسی طرح ختم ہو جاتی ہے تھی اور حلوہ رکھا ہی رہتا تھا ـ ہمارا نفس تو تیرہویں صدی کا ہے ایک دفعہ بھی اگر وعدہ خلافی ہو جائے پھر قبضہ میں نہیں آ سکتا ـ ہماری حالت پر نظر فرما کر حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ نفس کو خوب کھلاؤ پلاو اور اس سے خوب کام لو ـ غرض یہاں کی حالت تو بالکل واضح ہے جس کا دل چاہے تعلق رکھے ـ جس کا چاہے نہ رکھے محض لوگوں کے معتقد بنانے کہ لئے ہم سے تو بنا نہیں جاتا ـ جیسا آج کل بکثرت یہی حالت ہو رہی ہے کہ تقوی اور زہد سب لوگوں کے دکھلانے کے واسطے اختیار کیا جاتا ہے ـ اور زیادہ اہتمام اسی کا کیا جاتا ہے کہ لوگ معتقد ہوں مگر اس کا اہتمام علاوہ مذموم ہونے کے خود موجب پریشانی بھی تو ہے کیونکہ عوام کے اعتقاد کی اور بنائیں ہیں اور خواص کے اعتقاد کی اور نیز امراء کے اعتقاد اور غرباء کے اعتقاد کی اور اس حالت میں بتلائیے سب کو معتقد بنانے کا کہاں تک اہتمام کرو گے اور اگر کیا بھی تو ساری عمر اسی ضیق میں گزرے گی تو میں کہتا ہوں کہ کس جھگڑے میں پڑے اعتقاد کی بناؤں کے اختلاف پر ایک واقعہ یاد آیا ـ ایک شخص دہلی میں امراء میں سے تھے ان کے اعتقاد کی بنیاد سنئے کیسی ضعیف تھی وہ یہ کہ ایک شخص نے مجھ کو دو یا تین روپیہ دینے چاہے میں نے اپنے قواعد کی بناء پر لینے سے انکار کر دیا ـ بس اس سے وہ معتقد ہو گئے پھر مدت کے بعد ایک دنیاوی معاملہ میں انہوں نے مجھ سے سفارش کرانی چاہی ـ میں نے کسی عذر سے انکار کر دیا ـ اس سے غیر معتقد ہو گئے اور ایسے امراء سے اکثر بیچارے غرباء پھر غنیمت ہیں ـ ان کے اعتقاد کی بنیاد اکثر محض تعلق مع اللہ ہی ہوتی ہے اور ایسے غرباء بلکہ دیہاتی بے لکھے پڑھے متقی بھی ہوتے ہیں اور خوش فہم بھی ـ چناچہ وہ لوگ ایسی سمجھ کی بات کرتے ہیں کہ ان امراء کے بھی خواب میں بھی نہ آئی ہو حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک گاؤں کا شخص آیا ـ حضرت اس وقت خادم سے پاؤں دبوا رہے تھے ـ اس نے دیکھ کر کہا کہ مولوی جی بڑا جی خوش ہوتا ہوگا کہ ہم بھی ایسے ہیں ـ حضرت نے فرمایا کہ جی تو خوش ہوتا ہے مگر بڑا ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ آرام پہنچنے کی وجہ سے تو وہ گاؤں والا کیا کہتا ہے کہ مولوی جی تم کو پاؤں دبوانا جائز ہے ـ اس فہم کا کیا ٹھکانہ ہے کہاں نظر پہنچی ہے ـ آج کل تو مشائخ کی بھی دقائق پر نظر نہیں ـ